.

لبنانی فوج کی مرکزی شاہراہ کو کھلوانے کی کوشش کے دوران میں فائرنگ، متعدد افراد زخمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنانی فوج نے شمالی شہر طرابلس کو صوبہ عکہ سے ملوانے والی ایک مرکزی شاہراہ کو کھلوانے کی کوشش کے دوران میں فائرنگ کردی ہے جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوگئے ہیں۔

العربیہ کے نمایندے نے عینی شاہدین کے حوالے سے بتایا ہے کہ لبنانی فوج نے ہفتے کے روز طرابلس شہر کے نزدیک شاہراہ کو کھلوانے کے لیے ہوائی فائرنگ کی ہے۔ مظاہرین وہاں احتجاج کررہے تھے اور انھوں نے اس مرکزی شاہراہ کو بند کررکھا تھا۔

نمایندے نے مزید بتایا ہے کہ تشدد کے اس واقعے کے بعد طرابلس اور عکہ کے درمیان واقع علاقے بداوی میں ہفتے کی شب فوج کی مزید نفری بھیج دی گئی ہے۔

لبنانی انجمن ہلال احمر نے ٹویٹر پر اطلاع دی ہے کہ فائرنگ کے واقعے میں تین افراد زخمی ہوئے ہیں اور جائے وقوعہ پر گاڑیاں بھیج دی گئی ہیں۔بداوی میں اس واقعے کے بعد لبنانی فوج نے ایک بیان میں کہا ہے کہ شاہراہ کو بلاک کرنے والے مظاہرین کے ایک گروپ اور وہاں سے گزرنے والے عام شہریوں کے درمیان جھڑپ ہوئی ہے۔کاروں پر سوار ان شہریوں نے وہاں سے گزرنے کی کوشش کی تھی مگر مظاہرین نے انھیں راستہ دینے سے انکار کردیا۔

لبنانی فوج نے اپنے بیان میں مزید کہا ہے کہ فوجیوں نے جب لوگوں کے ہجوم کو منتشر کرنے کی کوشش کی تو ان پر پتھراؤ شروع کردیا گیا۔فوجیوں کی جانب آتش گیر مواد بھی پھینکا گیا جس سے پانچ فوجی زخمی ہوگئے۔اس پر فوج نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے اشک آور گیس کا استعمال کیا اور وہاں مزید نفری بھیج دی گئی ہے۔

دریں اثناء وزیراعظم سعد الحریری کی جماعت مستقبل تحریک نے پُرامن مظاہرین کے خلاف طاقت کے استعمال پر خبردار کیا ہے۔

لبنان میں گذشتہ دس روز سے حکمراں طبقے کی بدعنوانیوں کے خلاف احتجاجی مظاہرے جاری ہیں۔ مظاہرین نے دارالحکومت بیروت اور دوسرے شہروں میں بڑی شاہراہیں بند کررکھی ہیں جبکہ فوج اور پولیس انھیں کھلوانے کی کوشش کررہی ہیں۔

ایران نواز شیعہ ملیشیا حزب اللہ کے سربراہ حسن نصراللہ نے جمعہ کی شب ایک تقریر کی تھی اور اس میں مظاہرین کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ انھوں نے حکومت کی حمایت کا اظہار کیا تھا۔اس کے بعد ان کے حامیوں نے مظاہرین کے خلاف ریلی بھی نکالی ہے۔