.

ابوبکرالبغدادی کی ہلاکت کے بعد داعش کے انتقامی حملوں کا خطرہ ہے: شامی جمہوری فورسز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کی کرد ملیشیا نے داعش کے سربراہ ابو بکر البغدادی کی ہلاکت کے بعد ان کی سخت گیر تنظیم کے انتقامی حملوں سے خبردار کیا ہے۔

شامی جمہوری فورسز(ایس ڈی ایف) کے کمانڈر مظلوم عبدی نے اتوار کو ایک بیان میں کہا ہے کہ ’’داعش کے سلیپر سیل البغدادی کی موت کا انتقام لینے کی کوشش کریں گے۔اس لیے کچھ بھی ممکن ہے اور جیلوں پر بھی حملے کیے جاسکتے ہیں۔‘‘

واضح رہے کہ شام کے شمال مشرقی علاقے میں ایس ڈی ایف کے زیر انتظام مختلف جیلوں میں داعش کے بارہ ہزار سے زیادہ جنگجو اور ان کے خاندان قید ہیں۔ایس ڈی ایف امریکا کی اتحادی رہی ہے اور اس نے شام میں داعش مخالف جنگ میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ اس نے مارچ میں داعش کے زیر قبضہ تمام علاقوں کو واگزار کرالیا تھا۔

لیکن تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ زیر قبضہ علاقے کھوجانے کا یہ مطلب نہیں کہ اس دہشت گرد گروپ کی تنظیم اور نظریے کی بھی موت واقع ہوگئی ہے۔اس کے جنگجوؤں کے چھوٹے یونٹس روپوش ہوچکے ہیں اور انھوں نے علاقے میں گوریلا طرز کے حملے جاری رکھے ہوئے ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آج اتوار کو وائٹ ہاؤس سے داعش کے سربراہ ابوبکر البغدادی کی شام میں امریکی فوج کے ایک آپریشن میں ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔ انھوں نے البغدادی کے خلاف کارروائی میں شامی کردوں کے انٹیلی جنس تعاون کو سراہا ہے۔

مظلوم عبدی نے قبل ازیں سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں بھی اس کی تصدیق کی تھی اور انھوں نے کہا کہ داعش کے سربراہ کے خلاف آپریشن انٹیلی جنس میں تعاون کے نتیجے میں کامیابی سے ہم کنار ہوا ہے۔