.

شام میں البغدادی کے خلاف کارروائی مغربی عراق میں واقع ائیربیس سے کی گئی: امریکی عہدہ دار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کے شمال مغربی علاقے میں سخت گیر جنگجو گروپ دولت اسلامیہ (داعش) کے سربراہ ابوبکر البغدادی کے خلاف امریکا نے خصوصی کارروائی عراق کے مغرب میں واقع ایک ائیربیس سے کی ہے۔

اس بات کا انکشاف امریکا کے ایک عہدہ دار نے کیا ہے۔انھوں نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا ہے کہ اس مشن میں عراق کا اہم کردار رہا ہے۔عراقی انٹیلی جنس اور سکیورٹی حکام نے اس آپریشن کی کامیابی میں اہم کردارادا کیا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کو ایک نشری تقریر میں داعش کے خلیفہ ابوبکر البغدادی کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔انھوں نے کہا:’’ گذشتہ شب امریکا نے دنیا کے نمبر ایک دہشت گرد سے انصاف کردیا ہے۔ابوبکر البغدادی مرچکا ہے۔‘‘

صدر ٹرمپ نے البغدادی کے ٹھکانے کی تفصیلی وضاحت کی ہے۔انھوں نے ہفتے اور اتوار کی درمیانی شب وائٹ ہاؤس میں اس کارروائی کو براہِ راست ملاحظہ کیا تھا۔

ان کے بہ قول داعش کے سربراہ نے اپنی خود کش جیکٹ کو دھماکے سے اڑایا تھا۔امریکی فوجی ان کا پیچھا کررہے تھے اور اس وقت وہ ’’موت کی بند سرنگ‘‘ میں پھنس کر رہ گئے تھے۔اس خودکش بم دھماکے میں ان کے ساتھ ان کے تین بچے بھی مارے گئے تھے۔ان کی شناخت ہلاکت کے بعد ڈی این اے ٹیسٹ سے ہوئی تھی۔