.

بغدادی کےقتل سے سینہ ٹھنڈا ہوگیا:مقتول اردنی پائلٹ کے والد کے ریمارکس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

داعش کے ہاتھوں زندہ جلائے گئے اردنی پائلٹ معاذ الکساسبہ کے والد نے دہشت گرد گروہ کے سربراہ ابو بکر البغدادی کی امریکی فوج کے خصوصی آپریشن میں ہلاکت کی پرخوشی اور اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ البغدادی کی موت کی خبر نے آج میرا سینہ ٹھنڈا کردیا۔ یہ ایک ایسا شخص تھا جس نے دین کے نام پر اسلام اور مسلمانوں کو پوری دنیا میں بدنام کیا۔ البغدادی کی ہلاکت کی خبر ہم سب کے لیے بہت بڑی خوش خبری ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ "مجھے آج بغدادی کی ہلاکت کی خبر سن کر بہت خوشی ہوئی۔ بغدادی ایک فسادی شخص تھا جس نے پوری عرب دنیا میں دہشت گردی کے وائرس پھیلائے۔ یہ وائرس مسلمانوں میں پھیلایا اور اس نے اسلام کی اصل تصویر اور اس کے تشخص کو داغ دار کیا۔

مقتول اردنی ہواباز معاذ الکساسبہ کے والد نے کہا کہ "اپنی زندگی میں البغدادی کی موت کی خبر سننا میری خواہش تھی۔ آج میری یہ دیرینہ خواہش پوری ہوگئی۔ میری خواہش تھی کہ میں البغدادی اور معاذ کے قاتل صدام الجمل سے مل سکوں۔

خیال رہے کہ داعش نے اردن کے ایک ہوا باز معاذ الکساسبہ کو یرغمال بنانے کے بعد اسے نہ صرف زندہ جلا کر قتل کردیا تھا بلکہ اس کو بے دردی کے ساتھ قتل کرنے کی فوٹیج انٹرنیٹ پر پوسٹ کی تھی۔

پُرخطر آپریشن

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کے روز شام کے صوبہ ادلب کے دیہی علاقوں میں واقع بریشا گاؤں میں داعش کے سربراہ البغدادی کے خلاف ایک بڑے آپریشن کا اعلان کیا۔ اس آپریشن میں البغدادی اور اس کئی ساتھی ہلاک ہوگئے ہیں۔ امریکی صدر نے اسے ایک خطرناک آپریشن قرار دیا ہے۔

ٹرمپ نے کہا کہ ڈی این اے ٹیسٹ کے نتائج سے معلوم ہوا ہے کہ یہ البغدادی ہلاک ہوچکا ہے۔

"العربیہ" کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق عراقی انٹیلی جنس کے ہاتھوں دو ماہ قبل گرفتار ہونے والے محمد علی ساجت عدیل ابو بکر البغدادی نے داعشی سربراہ کے ٹھکانے کی نشاندہی میں مدد کی تھی۔

"العربیہ کے نامہ نگار کے مطابق ساجت تنظیم کے رہنما کا قریبی ساتھی تھا۔ اس نے دوران تفتیش عراقی انٹیلی جنس کوالبغدادی کے متعدد ٹھکانوں کے بارے میں معلومات فراہم کیں۔ ان معلومات کی روشنی میں امریکی فوج کی طرف سے کارروائی کی گئی۔