.

بغداد میں پُرتشدد احتجاجی مظاہروں میں مزید پانچ عراقی ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کے دارالحکومت بغداد میں سوموار کے روز پُرتشدد احتجاجی مظاہروں میں مزید پانچ افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔عراق کے انسانی حقوق کمیشن نے ایک بیان میں ان ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے۔عراق میں اس ماہ کے اوائل سے جاری احتجاجی تحریک کے دوران میں تشدد کے واقعات میں مرنے والوں کی تعداد 240 ہوگئی ہے۔

انسانی حقوق کمیشن کے علی بیتی نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا :’’فوری طور پر یہ واضح نہیں ہوا کہ یہ افراد کیسے ہلاک ہوئے ہیں۔‘‘ لیکن بغداد میں حالیہ دنوں میں احتجاجی مظاہروں میں شریک بہت سے افراد سکیورٹی فورسز کی براہ راست فائرنگ یا اشک آور گیس کے کنستروں سے نظام تنفس متاثر ہونے کے بعد مارے گئے ہیں۔

قبل ازیں یہ اطلاع سامنے آئی تھی کہ بغداد کے وسطی علاقے میں حکومت مخالف مظاہرے کے دوران میں سکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپوں میں دو افراد ہلاک اور 105 زخمی ہوگئے ہیں۔دارالحکومت میں آج ہزاروں طلبہ بھی حکومت کے انتباہ کے باوجود احتجاجی مظاہروں میں شریک تھے۔

ہزاروں طلبہ نے بغداد اور جنوبی شہروں میں جامعات اور ثانوی اسکولوں میں اپنی جماعتوں کا بائیکاٹ کیا ہے اور وہ تعلیمی اداروں کا رُخ کرنے کے بجائے سڑکوں پر آگئے تھے۔

بغداد میں احتجاجی تحریک کے مرکز تحریر چوک میں مظاہرین حکومت اور سیاسی جماعتوں کے خلاف نعرے بازی کررہے تھے اور ان کا کہنا تھا کہ یہ طلبہ کا انقلاب ہے۔بہت سے مظاہرین نے اس مرکزی چوک میں دھرنا دے رکھا ہے اور رضاکار انھیں کھانا مہیا کررہے ہیں۔

انھیں یہ امید ہے کہ وہ 2011ء کے عرب بہاریہ انقلاب کی طرح ملک میں ایک انقلابی تحریک برپا کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے۔ وہ بھی دوسرے ممالک کی طرح عراق میں اربابِ اقتداروسیاست کی بدعنوانیوں ، لوٹ کھسوٹ ، معاشی زبوں حالی ، بڑھتی ہوئی مہنگائی اور بے روزگاری اور شہری خدمات کے پست معیار کے خلاف سراپا احتجاج بنے ہوئے ہیں۔

سکیورٹی فورسز نے مظاہرین کو بغداد میں قلعہ نما گرین زون کی جانب جانے والے پل کو عبور کرنے سے روکنے کے لیے اشک آور گیس کے گولے اورشور پیدا کرنے والے دستی بم پھینکے۔ گرین زون میں عراقی پارلیمان ،وزارتیں، سرکاری دفاتر اور غیرملکی سفارت خانے واقع ہیں۔

واضح رہے کہ بغداد اور جنوبی شہروں میں یکم اکتوبر کے بعد گذشتہ ہفتے تک پُرتشدد احتجاجی مظاہروں میں 149 زیادہ افراد ہلاک ہوئے تھے۔ احتجاجی ریلیوں کے دوران میں عراقی سکیورٹی فورسز نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے براہ راست گولیاں چلائی ہیں جس سے اتنی زیادہ تعداد میں ہلاکتیں ہوئی ہیں۔بغداد اور جنوبی شہروں میں صرف جمعہ کے بعد حکومت مخالف احتجاجی مظاہروں میں مزید72 افراد مارے گئے ہیں۔