.

سعودی عرب: سمندر میں چلتے اونٹوں کی تصویر نے مقبولیت کے ریکارڈ توڑ دیے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے ایک دستاویزی فلم ساز نے مملکت کے جنوب میں عسیرکے سمندر میں سے اونٹوں کے گذرنے والے ایک قافلے کے مناظرکواپنے کیمرے میں محفوظ کیا ہے۔ سمندر سے گذرتے اونٹوں کی تصاویر اور حیرت انگیز مناظر نے دیکھنے والوں کو بھی حیرت میں متبلا کردیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق فوٹو گرافر ماجد عون الاحمری کی تصاویر کی سوشل میڈیا پر دھوم ہے اور اونٹوں کی لمبی قطار میں سمندر کے پانی سے گذرنے کی تصویر نے مصور کی فن کارانہ مہارت، سعودی ثقافت اور قدرت کی صناعی اور کاری گری کی عکاسی ہوتی ہے۔ سوشل میڈیا پرالاحمری کی اونٹوں کے گذرنے کی تصویر کو قدرت کا ایک حسین شاہکار اور آرٹ کا ایک عمدہ نمونہ قرار دیا جا رہا ہے۔

سعودی دستاویزی فلم ساز ماجد عون الاحمری نے اپنی تصوریرکے ذریعے اپنے سوشل میڈیا پراپنے مداحوں کی توجہ اس تصویر کے ذریعے اپنی طرف مبذول کرائی ہے۔ سوشل میڈیا پر اس تصویر نے مقبولیت کے نئے ریکارڈ قائم کیے ہیں۔اس کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کے جنوب میں واقع عسیر کے سمندر میں اونٹوں کے ایک لمبی قطارمیں گذرنے کے منظر نے خود مجھے بھی مبہوت کیا۔ یہ اونٹ ایک ترتیب کےساتھ چل رہے تھے۔ مانجروف نامی ایک درخت کو کھانے کے لیے وہ بہت محتاط انداز میں چلتے تھے کہ کہیں پانی میں گر نہ جائیں۔ بلا شبہ اونٹ خدا کی عظمت کی نشانیوں اور اس کی قدرت کاری گری کی علامت ہے۔

الاحمری نے 9 سال قبل اپنی پیشہ ورانہ فوٹو گرافی کا آغاز کیا تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ عسیر خطہ سیاحت کی ترقی کی طرف گامزن ہے۔ اس علاقے کے قدرتی حسن کو اجاگر کرنے کے لیے دستاویزی فلموں پرکام کرنے کی ضرورت ہے۔ان کا کہنا تھا کہ میں نے ساحل اور سمندر پر بہت سے دستاویزی کام کیے ہیں۔ ان میں سب سے اہم فلم 'کینبل' ہے۔ یہ ایک مشہور جزیرے کی کہانی ہے جسے عسیر کے ساحل پر دستاویز کیا گیا۔ عسیر کے 23 جزیرے ہیں جن میں سے بہت کم دیکھے گئے ہیں۔ میں نے اپنی دستاویزی فلموں میں ان کا تعارف کرایا۔

ایک سوال کے جواب میں عوان الاحمری کا کہنا تھا کہ میرے لیے خاموش تصویر کی کوئی اہمیت نہیں چاہے وہ کتنی خوبصورت کیوں نہ ہو۔ میں ایسی تصاویر کی تلاش میں رہتا ہوں کو اپنے دیکھنےوالوں کو کوئی پیغام دے سکیں، انہیں معلومات فراہم کریں، انہیں غور فکر کی دعوت دیں، ان میں کوئی ثقافتی یا سیاحتی کشش پائی جائے۔

میں ان علاقوں میں سیاحتی فلموں کے لیے مناظر کی تلاش میں رہتا ہوں۔ ان مقامات اور مناظر کی کھوج میں رہتا ہوں جو منظرعام پرنہیں آئے۔عسیر میں ثقافتی تنوع اور کثرت کو دیکھتے ہوئے بہت سے مقامات ابھی دریافت کرنے باقی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ غیرملکی سیاحوں کی سہولت کے لیے دستاویزی فلموں میں انگریزی ترجمے کے ذریعے رہ نمائی کی سہولت فراہم کروں گا۔

جہاں تک ان کے دستاویزی کاموں کی بات ہے تو الاحمری نے زور دے کر کہا کہ وہ حیرت انگیز اور بہت طاقت ور ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ احتیاط سے تصاویر ، عنوانات اور کاموں کا انتخاب کرتے ہیں۔ ان دیکھے مناظر کو شامل کرتے ہیں۔