.

عراق : متعدد صوبوں میں کرفیو ختم ، مظاہرین کے مطالبات پارلیمنٹ میں زیر بحث

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق میں زیادہ تر صوبوں میں عائد کرفیو پیر کی صبح اٹھا لیا گیا ہے۔ قبل ازیں حکام نے عوامی احتجاجی مظاہروں کے دوران پرتشدد کارروائیوں کے سبب دیوانیہ، ذی قار اور بصرہ سمیت کئی صوبوں میں کرفیو نافذ کر دیا تھا۔ مظاہروں کے دوران سیکورٹی فورسز کی فائرنگ کے نتیجے میں درجنوں احتجاج کنندگان ہلاک ہوئے۔

ادھر عراقی پارلیمنٹ کا ایک خصوصی اجلاس آج پیر کے روز منعقد ہو رہا ہے۔ اجلاس میں مظاہرین کے مطالبات اور اصلاحات کے پیکج پر عمل درامد کے لیے کابینہ کے فیصلوں پر بحث ہو گی۔

اس سے قبل دارالحکومت بغداد میں اتوار کی شب ہزاروں افراد ایک بار پھر احتجاج کے لیے سڑکوں پر نکل آئے۔ مظاہرین نے دارالحکومت کے وسط میں التحریر اسکوائر پر جمع ہو پیر کی صبح تک احتجاج کیا۔

کربلا صوبے میں بھی پرتشدد کارروائیاں دیکھنے میں آئیں۔ یہاں صوبائی کونسل کی عمارت کے مرکزی دروازے کو آگ لگا دی گئی۔ اس کے علاوہ ہوائی فائرنگ اور سیکورٹی اہل کاروں پر حملوں کے واقعات بھی پیش آئے۔

دوسری جانب عراق میں انسانی حقوق کے اعلی کمیشن نے حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ احتجاج کنندگان کے مطالبات کو پورا کرنے کے لیے فوری عمل درامد کرے ... اور عراق کے صوبوں میں مظاہروں سے معلق سرکاری اعداد و شمار کمیشن کو فراہم کرے۔ کمیشن کا کہنا ہے کہ اس نے اس بات کا پتہ چلایا ہے کہ احتجاج کے دوران مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے سیکورٹی فورسز نے ضرورت سے زیادہ طاقت کا استعمال کیا۔

کمیشن کے تفصیلی بیان میں سیکورٹی فورسز کی جانب سے کئی خلاف ورزیوں کو واضح کیا گیا۔ بغداد اور دیگر کئی صوبوں میں مظاہرین کے ساتھ تصادم کے دوران احتجاج کنندگان کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس، گرم پانی اور کریکرز کا استعمال کیا گیا اور لاٹھی چارج بھی کیا گیا۔

بیان کے مطابق سیکورٹی فورسز نے بصرہ، ذی قار اور بابل میں احتجاجی دھرنوں کو ختم کرانے کے دوران 158 افراد کو حراست میں لیا۔ ان میں سے 123 افراد کو رہا کر دیا گیا جب کہ 35 ابھی تک گرفتار ہیں۔

انسانی حقوق کے کمیشن نے تصدیق کی ہے کہ بغداد اور دیگر متعدد صوبوں میں وزارت صحت کے محکموں اور ہسپتالوں نے زخمیوں اور ہلاکتوں سے متعلق سرکاری اعداد و شمار فراہم سے منع کر دیا ... یہ 2008 میں کمیشن کے ترمیم شدہ قانون نمبر (53) کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

ادھر عراقی پارلیمنٹ کے 5 ارکان اپنی پارلیمانی رکنیت سے مستعفی ہونے کا اعلان کر چکے ہیں۔ مذکورہ ارکان کے مطابق انہوں نے احتجاجی تحریک کے مطالبات کے جواب میں سیاسی طبقے کی مایوس کن کارکردگی پر استعفے دیے ہیں۔

یاد رہے کہ عراق میں انسانی حقوق کے اعلی کمیشن نے تصدیق کی ہے کہ جمعے کے روز سے اب تک کم از کم 74 عراقی اپنی جانوں سے ہاتھ دھو چکے ہیں جب کہ سیکڑوں زخمی ہوئے۔ ان میں زیادہ تر افراد فائرنگ کا نشانہ بنے جو احتجاج کنندگان اور سیکورٹی فورسز کے درمیان تصادم کے واقعات کے نتیجے میں کی گئی۔