.

لبنانی مظاہرین کی جانب سے راستوں کی بندش، ملک بھر میں عام ہڑتال کی کال

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنان میں حکمراں اشرافیہ کے خلاف 17 اکتوبر کو شروع ہونے والی عوامی تحریک آج پیر کے دن اپنے 12 ویں روز میں داخل ہو چکی ہے۔ مظاہرین نے مذکورہ اشرافیہ پر بدعنوانی کا الزام عائد کیا ہے۔ احتجاج کرنے والوں کے ایک گروپ نے مطالبہ کیا تھا کہ آج کے روز "گاڑیوں کے سوموار" کے نام سے عام ہڑتال کی جائے۔ اس سلسلے میں عوام پر زور دیا گیا ہے کہ وہ راستوں کو بند کرنے کے لیے سڑکوں پر اپنی گاڑیاں پارک کر دیں۔

لبنان میں ’’العربیہ‘‘ کی خاتون رپورٹر نے پیر کے روز بتایا ہے کہ متعدد احتجاج کنندگان نے آج صبح سویرے اپنی گاڑیاں کھڑی کر کے دانستہ طور پر راستوں کو بلاک کر دیا۔ اس دوران لبنانی فوج نے سڑکوں کو کھلوانے کی کوشش کی۔

اسی طرح مظاہرین نے پیر کی صبح لبنان کے جنوبی شہر صیدا کے مرکزی اور ذیلی راستوں کو اپنے اجسام اور متعدد گاڑیوں کے ذریعے بلاک کر دیا۔ اس دوران وہاں تعینات لبنانی فوجیوں اور عوام کے درمیان دھکم پیل بھی ہوئی۔ لبنانی فوج نے بعض احتجاج کنندگان کو گرفتار بھی کر لیا۔

اس سے قبل اتوار کے روز بیروت کے وسطی علاقے کے علاوہ صیدا، نبطیہ اور طرابلس کے شہروں میں رات گئے تک ہزاروں افراد نے احتجاج جاری رکھا۔

احتجاجی تحریک کے ایک گروپ نے پیر کے روز ملک بھر میں عام ہڑتال کی کال دی ہے۔ گروپ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ عوامی مفادات کی مخالف حکومت کے فوری طور پر مستعفی ہونے اور متعین ذمے داریوں کی حامل ایک عبوری حکومت کی تشکیل تک احتجاجی تحریک جاری رہے گی۔ عبوری حکومت حکمراں اشرافیہ کے باہر کے لوگوں پر مشتمل ہو جس کے نگراں عدالت کے خود مختار اور آزاد جج حضرات ہوں۔ یہ حکومت اقتصادی بحران، ٹیکسوں کے قانون اور قبل از وقت انتخابات سے متعلق معاملات کو حل رکے۔

دوسری جانب ملک بھر میں احتجاج جاری رہنے کے پیش نظر لبنانی بینکوں کی ایسوسی ایشن نے پیر کے روز تمام بینکوں کو بند رکھنے کا اعلان کیا ہے۔

یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بینکوں کو یہ اندیشہ ہے کہ اگر ان کے دروازے عوام کے لیے کھول دیے گئے تو ڈالر کی مانگ بڑھ جائے گی یا پھر جمع شدہ رقوم کا ایک بڑا حصہ بیرون ملک منتقل کر دیا جائے گا اور پھر ڈالر کے مقابل لبنانی لیرہ کی قدر میں گراوٹ ہو گی۔

یاد رہے کہ گذشتہ 12 روز سے لبنان کو سیاسی اشرافیہ کے خلاف احتجاجی تحریک نے لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ ملک کے یہ حالات 1975 سے 1990 کے دوران ہونے والی خانہ جنگی کے بعد اب تک کی سنگین ترین صورت حال ہے۔ مذکورہ خانہ جنگی کے دوران پرتشدد واقعات کے سبب بینک، اسکول اور بہت سی کمپنیاں تمام وقت بندش کا شکار رہیں۔