.

مقتدیٰ الصدر کا عراق میں قبل ازوقت انتخابات کرانے کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کے مقبول شیعہ لیڈر مقتدیٰ الصدر نے وزیراعظم عادل عبدالمہدی سے قبل ازوقت پارلیمانی انتخابات کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔انھوں نے سوموار کو ایک بیان میں کہا ہے کہ یہ انتخابات اقوام متحدہ کے زیرنگرانی ہونے چاہییں اور ان میں موجودہ سیاسی جماعتوں کو حصہ لینے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔

مقتدیٰ الصدر کے زیر قیادت اتحاد سائرون نے 2018ء میں عراق میں منعقدہ پارلیمانی انتخابات میں سب سے زیادہ نشستیں حاصل کی تھیں اور ان کی حمایت کی بدولت ہی وزیراعظم عادل عبد المہدی مخلوط حکومت بنانے میں کامیاب ہوئے تھے۔

مقتدیٰ الصدر نے ہفتے کے روز بھی ایک بیان میں حکومت سے مستعفی ہونے اور قبل از وقت انتخابات کا مطالبہ کیا تھا۔انھوں نے کہا تھا کہ عراق میں آیندہ انتخابات اقوام متحدہ کی نگرانی میں ہونے چاہییں۔

ان کے پارلیمانی بلاک سائرون نے ہفتے کے روز مظاہرین کے حق میں غیر معیّنہ مدت کے لیے دھرنا دینے کا اعلان کیا تھا اور کہا تھا کہ جب تک حکومت مخالف مظاہرین کے مطالبات پورے نہیں کردیے جاتے، وہ بھی اپنا احتجاج جاری رکھے گا۔

عراق کے دارالحکومت بغداد اور دوسرے شہروں میں احتجاجی مظاہروں کے ردعمل میں پارلیمان کے چار ارکان نے اتوار کو مستعفی ہونے کا اعلان کردیا تھا جس کے بعد وزیراعظم عادل عبدالمہدی پر دباؤ میں مزید اضافہ ہوا ہے۔

بغداد میں آج بھی پُرتشدد احتجاجی مظاہرے جاری ہیں اور ان میں مزید پانچ افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔عراق کے انسانی حقوق کمیشن نے ایک بیان میں ان ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے۔عراق میں اس ماہ کے اوائل سے جاری احتجاجی تحریک کے دوران میں تشدد کے واقعات میں مرنے والوں کی تعداد دو سو چالیس ہوگئی ہے۔