.

500 سے زیادہ امریکی فوجی سازوسامان سمیت شام میں اپنے چھوڑے اڈوں پرلوٹ آئے: رصدگاہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کے شمالی علاقے میں 500 سے زیادہ امریکی فوجی سازوسامان سمیت سوموار کو دوبارہ اپنے چھوڑے ہوئے اڈوں پرلوٹ آئے ہیں۔

برطانیہ میں قائم شامی رصدگاہ برائے انسانی حقوق نے داعش کے لیڈرابوبکر البغدادی کی ہلاکت کے ایک روز بعد ان امریکی فوجیوں کی شام میں واپسی کی اطلاع دی ہے۔ ان کا ایک فوجی اڈا شام کی ایم 4 شاہراہ پر تل تمر اور تل بیدارکے درمیان واقع ہے۔ یہ علاقہ عراق کی سرحد ،قامشیلی اور شمالی شہر حلب کے درمیان واقع ہے۔

رصدگاہ نے مزید اطلاع دی ہے کہ امریکی طیارے گذشتہ پانچ روز سے شام کے شہر سیرین کے ہوائی اڈے پر اتر رہے تھے۔ان طیاروں سے گاڑیاں ،فوجی سازوسامان اور آلات بھی اتارے جارہے تھے۔

ان کے علاوہ 85 گاڑیوں اور ٹرکوں پر مشتمل امریکی فوج کے دوقافلے اتوار کی شب عراق سے شامی سرزمین میں داخل ہوئے تھے۔

امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ نے دو ہفتے قبل شام سے اپنی مسلح افواج کو واپس بلانے کا اعلان کیا تھا اور کہا تھا کہ امریکی فوجی شام کے شمال مشرقی علاقے میں ترکی کی فوجی کارروائی میں حصہ نہیں لیں گے۔بعد میں امریکی صدر نے اپنے اس فیصلے کا دفاع کیا تھا ۔

وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری اسٹیفنئی گریشم نے تب ایک بیان میں کہا تھا کہ" امریکی افواج نے داعش کی علاقائی خلافت کو شکست سے دوچار کیا ہے۔اب وہ اس علاقے میں نہیں رہیں گی۔"