.

البغدادی کی ہلاکت کے بعد 'داعش' کا مستقبل اور اس کا ممکنہ لائحہ عمل کیا ہو گا؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اتوار کے روز امریکی فوج کے ہاتھوں 'داعش' کے سربراہ ابوبکر البغدادی کی ہلاکت کے اعلان کے بعد تنظیم کے مستقبل کے بارے میں بہت سے سوالات پیدا ہوگئے ہیں۔ جہاں دانشوروں اور دہشت گرد تنظیموں کے ماہرین نے 'داعش' کے مستقبل کے حوالے سے چار ممکنہ منظرنامے پیش کیے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر تنظیم موجودہ ڈگر پرچلتی رہی تو وہ جلد ہی البغدادی کے جانشین کا اعلان کرے گی۔

تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ اب تک 'داعش' کا مرکز عراق اور شام رہے ہیں مگر ہوسکتا ہے کہ داعش اپنا مرکز مشرق وسطیٰ سے افریقا منتقل کردے۔

دہشت گرد تنظیموں کے امور کے ماہر مصری تجزیہ نگار محمد فاروق نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ 'داعش' کے پاس ایسے مالی اور فوجی عناصر موجود ہیں جو بغدادی کی ہلاکت کے بعد اس تنظیم کی بقا اور اسے ٹوٹنے سے روکنے کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔ داعش کو کوئی کفیل ملک بھی مل سکتا ہے جو اس کی دہشت گردی کی پشت پناہی کرے گا۔ اسے مالی تعاون فراہم کرنے کے ساتھ اس کے ایجنڈے کوآگے بڑھانے میں اس کی مدد کرے گا۔

مصری دانشور کے مطابق اب داعش نے اپنی موثر قیادت کے ذریعے تنظیم کے ڈھانچے اور اس کو متحد رکھنے میں کامیابی حاصل کی۔ یہی وجہ ہے کہ داعش نے البغدادی کے منظر سے ہٹنے کےباوجود اپنی کارروائیاں جاری رکھیں۔ تنظیم نے عبد اللہ قرداش نامی ایک جنگجو کو پہلے ہی تنظیم میں البغدادی کا نائب منتخب کر دیا تھا۔

محمد فاروق کا کہنا ہے کہ چونکہ داعش کی قیادت اور اس کے جنگجوئوں کا عالمی سطح پر تعاقب اور ان کے خلاف قانون حرکت میں ہے۔ اس لیے ایک منظر نامہ قیادت کا منظر عام سے غائب رہنے کا بھی ہوسکتا ہے۔ اگر طریقہ اپنایا جاتا ہے تو 'داعش' گوریلا جنگ کی طرف جائے گی اور زیرزمین رہ کر کاروائیاں کرے گی۔ وہ اپنی بقاء کی جنگ جاری رکھنے کےساتھ اپنے وجود کو زندہ رکھنے کے لیے گوریلا حملوں کا راستہ اختیار کرسکتی ہے۔

فاروق کے مطابق تیسرا منظر نامہ یہ ہوسکتا ہے کہ 'داعش' مختلف ملکوں اور علاقوں میں مخلتف ناموں کے ساتھ شاخوں میں بٹ جائے گی۔ چوتھا ممکنہ منظر نامہ تنظیم کے پورے ڈھانچے کو ختم کرکے اسے از سرنو ترتیب دینا ہوسکتا ہے۔

فاروق نے کہا کہ اغلب امکان یہ ہے کہ داعش اپنی بقاء کے لیے البغدادی کا نائب مقرر کرکے البغدادی ہی کے نقش قدم پرچلے گی۔ تنظیم کے پاس اس کی صلاحیت اور طاقت اس لیے بھی موجود ہے کہ اس کے پاس 400 ملین ڈالر سے زیادہ کی رقم 40 ٹن سونا ہے۔ یہ خطیر دولت 'داعش' کے وجود کو باقی رکھنے میں مدد دے سکتی ہے۔

ابو بکر البغدادی کے متوقع جانشین کون ہیں؟

لندن میں مڈل ایسٹ فورم فار اسٹڈیز کے محقق احمد عطا کا کہنا ہے کہ عبد اللہ قرداش داعش تنظیم کی سربراہی کرنے والے پہلے امیدوار ہوسکتے ہیں۔ قرداش کو حال ہی میں البغدادی کا نائب مقرر کیا گیا تھا۔ وہ عراق کے مصلوب صدر صدام حسین کی فوج میں افسر رہ چکا ہے۔ داعش میں شمولیت سے قبل وہ القاعدہ میں مذہبی امور کا انچارج بھی رہ چکا ہے۔

انہوں نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ دوسرا ممکنہ خلیفہ صومالی رہ نما عبد القادرمومن ہے ، جو افریقہ میں داعش کا سربراہ ہے۔ مومن افریقی ممالک میں سرگرم الشباب دہشت گردی کی تحریک کا رکن تھا۔ اس نے البغدادی کے ہاتھ پر بیعت کی 52 سالہ عبدالقادر مومن کے پاس داعش کی مشرق وسطیٰ میں تمام پوزیشننگ پوائٹس کا مکمل نقشہ موجود ہے۔

عطا کا کہنا ہے کہ ایک تیسرا بھی 'داعش' تنظیم کا البغدادی کی جگہ سربراہ بن سکتا ہے۔ مراکش اور فرانس کی دوہری شہریت رکھنے والا عبد للہ حمیش البغدادی کا مقرب سمجھا جاتا ہے۔ اس نے سنہ 2015ء میں فرانس میں باتکلان تھیٹر بم دھماکوں کے حملہ آور صلاح عبدالسلام کے بعد دہشت گرد عناصر کی قیادت سنھبالی تھی۔ عبداللہ حمیش اس اعتبار سے اہمیت کا حامل ہے کہ البغدادی کے بعد تنظیم کے بارے میں ڈیٹا اور اس کے مالی امور کے بارے میں جتنی معلومات اس کے پاس ہیں کسی دوسرے کے پاس نہیں۔ تاہم عبداللہ قرداش اور عبدالقادر مومن کی موجودگی میں اسے البغدادی کا جانشین بنائے جانے کے امکانات کم ہیں۔