.

ترکی اور شام کی فوجوں میں سرحدی علاقے میں پہلی مرتبہ شدید جھڑپ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کی سرکاری فوج اور ترک فوج کے درمیان منگل کے روز سرحدی علاقے میں شدید جھڑپ ہوئی ہے۔ دونوں ملکوں کی فوجوں میں شام کے شمال مشرقی علاقے میں ترکی کی کرد ملیشیا کے خلاف تین ہفتے قبل فوجی کارروائی کے آغاز کے بعد یہ پہلی جھڑپ ہے اور اس میں چھے شامی فوجی زخمی ہوگئے ہیں۔

برطانیہ میں قائم شامی رصدگاہ برائے انسانی حقوق نے علاقے میں موجود اپنے ذرائع کے حوالے سے اطلاع دی ہے کہ شامی اور ترک فوجوں کے درمیان سرحدی قصبے راس العین سے جنوب میں واقع گاؤں اسدیہ میں پہلی مرتبہ شدید لڑائی ہوئی ہے۔انھوں نے ایک دوسرے کے خلاف توپ خانے سے گولہ باری کی ہے اور مشین گنوں کا استعمال کیا ہے۔

ترک فوج اور اس کے حامی شامی باغی گروپوں نے نو اکتوبر کو شام کے شمال مشرقی علاقے میں کرد فورسز کے خلاف حملہ کیا تھا۔اس کا مقصد سرحد سے 30 کلومیٹر کے علاقے میں ایک بفر زون قائم کرنا ہے۔

ترکی کی اس کارروائی کے نتیجے میں کرد فورسز نے عرب اکثریتی 440کلومیٹر سرحدی علاقے کے 120کلومیٹر طویل حصے سے انخلا سے اتفاق کیا تھا۔ امریکا کی ثالثی میں ترکی اور کرد ملیشیا کے درمیان یہ جنگ بندی طے پائی تھی،تاہم اس کے بعد سے ان کے درمیان وقفے وقفے سے جھڑپیں جاری ہیں۔

ترکی کا بعد میں شامی حکومت کے پشتیبان روس کے ساتھ بھی ایک سمجھوتا طے پایا تھا ۔اس کے تحت انھوں نے کردفورسز کو ترکی کے ساتھ واقع تمام سرحدی علاقے سے پیچھے ہٹانے سے اتفاق کیا تھا۔

اب اس علاقے میں10کلومیٹر کی طویل سرحدی پٹی میں روس اور ترکی کے فوجی آج سےمشترکہ گشت کریں گے جبکہ کرد ملیشیا کے زیر قیادت شامی جمہوری فورسز نے سرحدی شہروں کا کنٹرول شام کی سرکاری فوج کے حوالے کرنا شروع کردیا ہے۔