.

شمالی شام کی آئل فیلڈز امریکی فورس کے تحفظ میں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی وزارت دفاع (پینٹاگان) کے ایک اعلان کے مطابق اگر واشنگٹن کی حمایت یافتہ شامی مسلح جماعتوں سے شامی آئل فیلڈز کا کنٹرول چھیننے کی کوشش کی گئی تو امریکا اس کو ناکام بنانے کے لیے "بھرپور طاقت" کا استعمال کرے گا ... خواہ مقابل حریف داعش تنظیم ہو یا روسی حمایت یافتہ فورسز ہوں اور یا پھر شامی حکومت کی فورسز ہوں۔

امریکی فوج نے گذشتہ ہفتے اعلان کیا تھا کہ وہ اضافی کمک کے ذریعے شام میں اپنی پوزیشن کو مضبوط بنا رہا ہے۔ اس کمک میں داعش تنظیم کی باقیات یا دیگر عناصر کی جانب سے آئل فیلڈز پر کنٹرول کی کوشش روکنے کی غرض سے مقرر کردہ میکانیکی فورس شامل ہے۔

امریکی وزیر دفاع مارک ایسپر نے پیر کی شام پینٹاگان میں ایک پریس بریفنگ دی۔ بریفنگ میں ان کا کہنا تھا کہ "امریکی فورسز اس تزویراتی علاقے میں تعینات رہیں گی تا کہ داعش تنظیم کو ان اہم وسائل تک پہنچنے سے روکا جا سکے۔ ہم وہاں پر اپنی فورسز کی سلامتی کے لیے خطرہ بننے والی کسی بھی جماعت کا جواب کچل دینے والی طاقت سے دیں گے"۔

ایسپر سے جب یہ پوچھا گیا کہ آیا امریکی فوج کے مشن میں روس یا شامی حکومت کی کسی بھی فورس کو آئل فیلڈز تک پہنچنے سے روکنا شامل ہے تو اُن کا جواب تھا "مختصر جواب یہ ہے کہ جی ہاں ، (مشن میں) یہ شامل ہے ہے"۔

ایسپر کے مطابق امریکی حمایت یافتہ سیرین ڈیموکریٹک فورسز (ایس ڈی ایف) نے اپنے جنگجوؤں کی فنڈنگ کے لے اس تیل کی آمدنی پر انحصار کیا ... ان میں وہ فورس بھی شامل ہے جو اُن جیلوں کا پہرہ دے رہی ہے جہاں داعش کے جنگجو زیر حراست ہیں۔

امریکی وزیر دفاع نے باور کرایا کہ "ہمارا مشن آئل فیلڈز کو محفوظ بنانا ہے"۔