.

عراق : کربلا میں مظاہرین خون میں لت پت ، 13 افراد ہلاک اور 865 زخمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کے صوبے کربلا میں پیر اور منگل کی درمیانی شب پُرتشدد واقعات کے سبب خون ریز ثابت ہوئی۔ ذرائع نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ صوبے میں دھرنوں کو ختم کرانے کے دوران 18 سے زیادہ افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

دوسری جانب برطانوی خبر رساں ایجنسی رائٹرز نے طبی اور سیکورٹی ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ پیر کی شب عراقی پولیس کی جانب سے احتجاج کنندگان پر گولیاں چلا دینے کے نتیجے میں کم از کم 13 افراد ہلاک اور 865 زخمی ہو گئے۔

مظاہرین نے وزارت داخلہ کے زیر انتظام خصوصی سیکورٹی فورسز پر الزام عائد کیا کہ کربلا شہر میں منگل کو علی الصبح احتجاج کنندگان کو منتشر کرنے کے لیے ضرورت سے زیادہ طاقت کا استعمال کیا گیا اور مجمع کو براہ راست فائرنگ کا نشانہ بنایا گیا ،،، بلکہ لوگوں کا قتل عام کیا گیا۔

شہر میں مظاہرین کی جانب سے پوسٹ کی جانے والی وڈیوز میں سیکورٹی فورس کی ایک گاڑی کو احتجاج کنندگان کو روندتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

اسی طرح دیگر وڈیوز میں مظاہرین براہ راست فائرنگ سے بچنے کے لیے بھاگتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔

انسانی حقوق کے اعلی کمیشن کے مطابق کربلا شہر میں سیکورٹی فورسز کی جانب سے چھوڑی گئی گیسوں کے سبب متعدد لوگوں کا دم گھٹ گیا۔ کمیشن نے بتایا کہ صورت حال کی سنگینی کے سبب کئی خاندان ہسپتال پہنچنے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔

دوسری جانب عراقی خبر رساں ایجنسی کے مطابق کربلا میں پولیس قیادت نے پیر کے روز مظاہرین یا سیکورٹی فورسز میں سے کسی کے بھی ہلاک ہونے کی تردید کی ہے۔ پولیس کے مطابق گذشتہ روز کربلا میں صرف ایک شہری ہلاک ہوا اور اس کی جان ایک مجرمانہ کارروائی میں گئی۔

کربلا پولیس نے فیس بک پر اپنے سرکاری پیج پر بیان میں کہا کہ کربلا میں تشدد کے حوالے سے وائرل ہونے والی وڈیوز جعلی ہیں اور ان کا مقصد لوگوں میں فتنہ بھڑکانا ہے۔ پولیس نے مزید کہا کہ کسی بھی میڈیا نے مرکزی ذریعے سے رجوع کیے بغیر کربلا شہر کی ساکھ خراب کرنے کی کوشش میں کوئی خبر پھیلانے کی کوشش کی تو اس کے خلاف عدالتی کارروائی کی جائے گی۔