.

مصر میں دہشت ناک حادثہ ، ٹرین کا ٹکٹ نہ ہونے پر نوجوان زندگی گنوا بیٹھا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر میں ایک نوجوان کے ٹرین کے نیچے آ کر ہلاک ہونے اور اس کے ساتھی کے زخمی ہونے پر مصری عوامی حلقوں نے سوشل میڈیا پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا ہے۔ دونوں نوجوانوں کو ٹکٹ نہ ہونے پر ذمے داران نے چلتی ٹرین سے چھلانگ لگانے پر مجبور کر دیا تھا۔

مصری وزارت ٹرانسپورٹ کے مطابق یہ واقعہ اسکندریہ سے الاقصر جانے والی اے سی ترین نمبر 934 میں پیش آیا۔ ٹرین کے نگراں ذمے دار نے دو نوجوانوں سے جو چیزیں فروخت کرنے کے ارادے سے سوار ہوتئے تھے ،،، ٹرین کا ٹکٹ مانگا جو ان کے پاس نہیں تھا۔ اس کے بعد اُن سے ٹکٹ کی قیمت ادا کرنے کے لیے کہا گیا مگر انہوں نے منع کر دیا۔ اس پر نگراں نے دونوں نوجوانوں کو ٹرین سے اتر جانے کے لیے کہا۔

تفصیلات کے مطابق ٹرین جب طنطا شہر کے دفرہ اسٹیشن پر پہنچی تو سگنل کا نظام معطل ہونے کے سبب اس کی رفتار دھیمی ہو گئی۔ اس دوران دونوں نوجوان چلتی ٹرین سے اتر گئے۔ تاہم اس کے نتیجے میں ان میں سے ایک نوجوان گِر کر ٹرین کے پہیوں کے نیچے آ گیا اور موقع پر ہی اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھا... جب کہ دوسرا نوجوان شدید زخمی ہو گیا۔ ہلاک ہونے والے نوجوان کی گردن کٹ کر اس کے جسم سے علاحدہ ہو گئی۔

مصر کی ریلوے اتھارٹی نے ٹرین کے نگراں ذمے دار کو تحقیق کے لیے طنطا شہر میں جنرل پراسیکیوٹر کے دفتر میں پیش کر دیا۔

دوسری جانب مصری وزیر ٹرانسپورٹ کامل الوزیر نے باور کرایا ہے کہ وہ کسی بھی مصری شہری کے حقوق میں کسی تساہل اور غفلت برتنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ٹرین کے ذمے داران کے حوالے سے تمام تر اقدامات کیے جائیں گے۔

مصری وزیر کے مطابق حادثے میں ہلاک ہونے والے 23 سالہ نوجوان کا نام محمد عید ہے اور وہ شبرا الخیمہ شہر میں رہتا تھا۔ وزیر نے نوجوان کے خاندان سے تعزیت کا اظہار بھی کیا۔

مصری وزیر نے اعلان کیا کہ وزارت ٹرانسپورٹ کی جانب سے متوفی نوجوان کے اہل خانہ کے لیے ایک لاکھ مصری پاؤنڈ دیے جائیں گے جب کہ زخمی ہونے والے نوجوان کو 20 ہزار پاؤنڈ ملیں گے۔ وزیر کے مطابق یہ رقم قانون میں مقرر کردہ زر تلافی کے علاوہ ہے۔