.

لبنانی وزیراعظم سعدالحریری کا اپنی کابینہ سمیت مستعفی ہونے کا اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنان کے وزیراعظم سعد الحریری نے ملک گیر عوامی احتجاجی تحریک کے بعد اپنی کابینہ سمیت مستعفی ہونے کا اعلان کردیا ہے۔انھوں نے کہا ہے کہ وہ ملک میں جاری بحران کو حل کرنے کی کوشش میں بند گلی میں پہنچ گئے تھے۔

لبنانی وزیراعظم نے منگل کی شام قوم سے ایک نشری خطاب میں اپنے استعفے کا اعلان کیا ہے۔انھوں نے کہا کہ ’’لبنانی عوام 13 روز تک بحران اور معیشت کو مزید انحطاط سے دوچار ہونے سے بچانے کے لیے سیاسی فیصلے کے منتظر رہے ہیں۔اس عرصے کے دوران میں، میں نے عوام کی آواز کو سن کرکوئی حل تلاش کرنے کی کوشش کی ہے۔‘‘

انھوں نے کہا’’اب ہمارے لیے وقت آگیا ہے کہ ہم بحران کے مقابلے میں ایک بڑا جھٹکا دیں۔میں حکومت کے استعفے دینے کے لیے صدارتی محل جارہا ہوں۔ سیاسی زندگی کے شراکت داروں کی آج سے یہ ذمے داری ہے کہ ہم لبنان کو کیسے محفوظ رکھ سکتے ہیں اور اس کی معیشت کوکیسے بحال کرسکتے ہیں۔‘‘

سعد حریری کی اس تقریر سے قبل ان کی مخلوط حکومت میں شامل شیعہ ملیشیا حزب اللہ اور امل تحریک کے حامیوں نے دارالحکومت بیروت میں احتجاجی مظاہرین کے بڑے کیمپ پر دھاوا بول دیا تھا اور وہاں لگے خیموں کو اکھاڑ پھینکا تھا۔کیمپ پر حملہ کرنے والے سیاہ نقاب پوش لاٹھیوں اور ڈنڈوں سے مسلح تھے۔انھوں نے بعض خیموں کو نذرآتش بھی کردیا تھا۔

عینی شاہدین کے مطابق سکیورٹی فورسز نے ابتدائی طور پر کوئی مداخلت نہیں کی تھی جبکہ مظاہرین انھیں مدد کے لیے پکارتے ہی رہ گئے۔حزب اللہ اور امل تحریک کے حملہ آوروں نے ان پر لوہے کے راڈ اور ڈنڈے برسائے جس کے بعد ان کے لیے وہاں سے بھاگ کھڑے ہونے کے سوا کوئی چارہ نہیں رہ گیا تھا۔

انھوں نے مظاہرین کے اس بڑے کیمپ پر یہ حملہ ایران نواز شیعہ ملیشیا حزب اللہ کے سربراہ سید حسن نصراللہ کی ایک تقریر کے بعد کیا تھا۔ اس میں انھوں نے کہا تھا کہ مظاہرین نے جن شاہراہوں کو بند کررکھا ہے،انھیں کھلوایا جانا چاہیے۔

حسن نصراللہ نے جمعہ کی شب تقریر میں مظاہرین کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا اور یہ بھی الزام عاید کیا تھا کہ مظاہرین کو حزب اللہ کے غیرملکی ایجنٹوں کی جانب سے رقوم مہیا ہورہی ہیں اوروہ ان کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہیں۔ انھوں نے حکومت کی حمایت کا اظہار کیا تھا اور اس کی سبکدوشی کی مخالفت کی تھی۔اس کے بعد ان کے حامیوں نے بیروت میں مظاہرین کے خلاف ریلی بھی نکالی تھی۔

لبنان میں 17 اکتوبر سے ہزاروں شہری حکمراں طبقے کی بدعنوانیوں کے خلاف احتجاجی مظاہرے کررہے ہیں۔ مظاہرین نے دارالحکومت بیروت اور دوسرے شہروں میں بڑی شاہراہیں بند کررکھی ہیں۔وہ حکمراں اشرافیہ کی بدعنوانیوں، بے روزگاری اور معاشی زبوں حالی کے خلاف سراپا احتجاج بنے ہوئے ہیں۔

وہ وزیراعظم کے علاوہ صدر میشیل عون اور پارلیمان کے اسپیکر نبیہ بری سے بھی مستعفی ہونے کا مطالبہ کررہے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ ملک میں سیاسی اور معاشی اصلاحات کی جائیں اور فرقہ وار بنیاد پر مروج نظام کے بجائے ایک نیانظام نافذ کیا جائے۔لبنان میں گذشتہ دس روز سے بنک ، کاروباری ادارے اور اسکول بند ہیں اور لبنانی پاؤنڈ کی قدر میں ڈالر کے مقابلے میں کمی واقع ہوئی ہے۔