.

امن منصوبہ پیش کرنے کے لیے وقت نامناسب ہے : ٹرمپ کے خصوصی مشیر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان مذاکرات کے امور سے متعلق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی مشیر جیسن گرین بلاٹ کا کہنا ہے کہ اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان آئندہ امن منصوبے کے اعلان کے لیے یہ وقت مناسب نہیں ہے۔ انہوں نے یہ بات العربیہ اور الحدث نیوز چینلوں کے لیے دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں کہی۔

امریکی مشیر نے امید ظاہر کی کہ حالات سازگار ہو جانے پر یہ منصوبہ منظر عام پر لایا جائے گا اس لیے کہ منصوبے کو وضع کرنے کے لیے بڑے پیمانے پر کوششیں صرف کی گئیں ہیں۔

گرین بلاٹ کے مطابق مذکورہ منصوبے کے ساتھ اسرائیل ، فلسطینیوں اور اس پورے خطے کے لیے بہت سی منفعتیں وابستہ ہیں ... تمام فریقوں کے لیے اتفاق رائے آسان نہیں ہو گا مگر جب اس کا اعلان کیا جائے گا تو سب یہ حقیقت جان لیں گے کہ ہم نے بڑی محنت کی ہے اور اس منصوبے میں سب کے لیے حل موجود ہے البتہ اس تک پہنچنے کا راستہ طویل اور پیچیدہ ہے۔

امریکی صدر کے مشیر نے کہا کہ بیت المقدس ابھی تک معلق معاملات میں سے ہے اور اسرائیل پر لازم ہے کہ وہ رعائتیں پیش کرے اور اسی طرح فلسطینیوں کو بھی کرنا ہو گا۔ واضح رہے کہ گرین بلاٹ رواں ماہ کے اختتام پر ذاتی وجوہات کی بنا پر اپنا منصب چھوڑ دیں گے۔

ٹرمپ کے مشیر نے بتایا کہ انہوں نے وائٹ ہاؤس میں کام کے دوران فلسطینیوں کے بارے میں بہت کچھ سیکھا۔ انہوں نے فلسطینیوں کو یہ نصیحت بھی کہ کہ وہ امن منصوبے کے بارے میں اخبارات میں شائع ہونے والی رپورٹوں پر یقین نہ کریں۔

گرین بلاٹ کا کہنا تھا "ہم نے امن منصوبے کی تفصیلات وضع کرنے میں تین برس گزار دیے جن میں سب لوگوں کی طرف سے رعائتیں شامل ہیں ،،، تاہم امریکا متعلقہ فریقوں پر بزور طاقت کوئی حل مسلط نہیں کر سکتا۔ اسی طرح اقوام متحدہ اور یورپی یونین بھی اپنی جانب سے کوئی حل نافذ نہیں کر سکتے۔ صرف وہاں بسنے والے اسرائیلیوں اور فلسطینیوں کے لیے جن کا جینا اور مرنا اس سرزمین پر ہے ،،، ان کے لیے ممکن ہے کہ وہ اس ڈیل کے انجام کا تعین کریں ،، ہم تو صرف ان کی مدد کر رہے ہیں"۔

ایران کی پالیسیوں کے حوالے سے گرین بلاٹ نے تہران کو خطے میں سب سے بڑا خطرہ قرار دیا۔