.

بغداد : گرین زون میں راکٹ گرنے سے ایک عراقی سیکورٹی اہل کار ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراقی فوج نے بدھ کے روز ایک اعلان میں بتایا کہ دارالحکومت بغداد کے علاقے گرین زون میں راکٹ کے گرنے کے نتیجے میں ایک سیکورٹی اہل کار ہلاک ہو گیا۔

عینی شاہدین کے مطابق دارالحکومت میں ایک راکٹ کو سخت ترین سیکورٹی میں محصور علاقے گرین زون کی سمت جاتے ہوئے دیکھا گیا ، اس کے بعد اس جانب سے زور دار دھماکے کی آواز بھی سنی گئی۔

گرین زون کو دارالحکومت بغداد کا حساس ترین علاقہ شمار کیا جاتا ہے جہاں سرکاری اور غیر ملکی سفارتی مشنوں کی عمارتیں اور دفاتر واقع ہیں۔

دوسری جانب سیکورٹی اور طبی ذرائع کے مطابق بدھ کے روز بغداد میں احتجاج کے دوران کم از کم 2 افراد ہلاک اور 175 زخمی ہو گئے۔ اس سے قبل عراقی سیکورٹی فورسز نے احتجاج کنندگان پر آنسو گیس کے گولے پھینکے جو گرین زون میں داخل ہونے کی کوشش کر رہے تھے۔

ذرائع نے مزید بتایا کہ مذکورہ دونوں افراد کی موت کی کا سبب آنسو گیس کے گولے ہیں جو براہ راست ان افراد کے سروں پر لگے تھے۔ بغداد کے وسطی علاقے اور ملک کے جنوب میں دیگر شیعہ اکثریتی صوبوں میں ہزاروں مظاہرین کے اکٹھا ہونے سے احتجاج نے مزید زور پکڑ لیا۔

سیکورٹی اور طبی ذمے داران کے مطابق بدھ کے روز بغداد میں احتجاج کے گڑھ التحریر اسکوائر کے کے احاطے میں سیکورٹی فورسز کی فائرنگ کے بعد 60 سے زیادہ مظاہرین زخمی ہو گئے۔

اس احتجاجی تحریک کے شروع ہونے کا سبب عراق میں موجودہ معاشی حالات ، بے روزگاری اور بدعنوانی ہے۔ با اثر مذہبی رہ نما مقتدی الصدر کے حامی اور کارکنان بھی مظاہرین میں شامل ہو چکے ہیں۔ الصدر پہلے ہی حکومت سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کر چکے ہیں۔ اس کے علاوہ اسکول اور یونیورسٹیز کے طلبہ بھی احتجاجی تحریک کا حصہ بن گئے ہیں۔

سیکورٹی فورسز نے عراق کے تمام علاقوں میں احتجاجی سلسلے سے نمٹنے کے دوران گولیوں اور آنسو گیس کا استعمال کیا۔ یکم اکتوبر سے شروع ہونے والی اس شورش کے بعد سے اب تک 240 افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو چکے ہیں۔