.

شام : ایس ڈی ایف نے ترکی نواز گروپوں سے 5 دیہات کا کنٹرول چھین لیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کے شمال مشرق میں سیرین ڈیموکریٹک فورسز (ایس ڈی ایف) نے الحسکہ صوبے کے 5 دیہات کا کنٹرول واپس لے لیا۔ یہ دیہات ترکی کے حمایت یافتہ شامی گروپوں کے قبضے میں چلے گئے تھے۔

ایس ڈی ایف کی جانب سے واپس لیے گئے دیہات رجلہ، ابو راسين، الحمرا، المناخ، السيباطيہ ہیں۔

شام میں انسانی حقوق کے نگراں گروپ المرصد کے مطابق گذشتہ نصف شب کے بعد الرقہ کے دیہی علاقے میں واقع تل عیسی کے قریب گاؤں شرکراک کے احاطے میں شدید جھڑپیں ہوئیں۔

ترکی کے حمایت یافتہ شامی مسلح گروپوں نے ایس ڈی ایف کے ٹھکانوں پر حملہ کیا تھا۔ اس دوران بارودی سرنگوں کے علاقے میں پھنس جانے کے بعد شامی گروپوں کے 8 ارکان اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

المرصد کے مطابق تل نمر اور الحسکہ صوبے کے دیہی علاقوں سے بشار کی فوج کے انخلا کے بعد مقامی آبادی میں وسیع پیمانے پر غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ہے۔ مقامی لوگوں کو اندیشہ ہے کہ دُھندلے مواقف کے بیچ عفرین کا منظرنامہ نہ دہرایا جائے۔

المرصد نے گذشتہ روز 30 اکتوبر کو بتایا کہ بشار کی فورسز ترکی کے ساتھ سرحدی پٹی کے نزدیک درباسیہ کے مغرب میں پورے دیہی علاقے سے نکل گئی۔ اسی طرح ابو راسین قصبے اور تل تمر کے زیر انتظام دیگر دیہات سے بھی بشار کی فورسز کا انخلا دیکھنے میں آیا۔ یہ پیش رفت ترکی کے حمایت یافتہ شامی گروپوں کے شدید حملے کے نتیجے میں واقع ہوئی۔ اس دوران ان گروپوں کو ترکی کے ٹینکوں اور ڈرون طیاروں کی معاونت بھی حاصل رہی۔ شامی اپوزیشن کے گروپوں نے علاقے میں العریشہ ، الریحانیہ اور دیگر دیہات کی جانب پیش قدمی کر کے ان پر کنٹرول حاصل کر لیا۔

المرصد کے مطابق عریشہ گاؤں اور ابو راسین علاقے کے زیر انتظام دیگر مقامات کے اطراف ایس ڈی ایف اور بشار کی فورسز کی ترکی کی فوج اور اس کے ہمنوا شامی گروپوں کے ساتھ شدید جھڑپیں ہوئیں۔ اس دوران آخر الذکر نے اول الذکر کے ٹھکانوں پر شید بم باری کی۔ المرصد نے ان جھڑپوں اور گولہ باری میں بشار کی فوج کے 3 ارکان کی ہلاکت کی تصدیق کی۔ دریں اثنا المرصد نے باوثوق ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ عریشہ گاؤں اور علاقے کے دیگر دیہات سے 400 سے زیادہ خاندانوں نے بم باری اور جھڑپوں سے بچنے کے لیے تل تمر قصبے کی سمت نقل مکانی کی۔