.

مظاہرین خود ہی سڑکیں کھول دیں: لبنانی فوج کی اپیل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنانی فوج اور سکیورٹی حکام نے مظاہرین پر زور دیا ہے کہ وہ خود ہی گذشتہ چودہ روز سے بند شاہراہیں کھول دیں تاکہ معمولاتِ زندگی بحال ہوسکیں۔

لبنانی فوجیوں نے بدھ کی صبح بیروت کے شمال میں ایک بڑی شاہراہ کو مظاہرین سے مختصر جھڑپ کے بعد کھلوا لیا ہے۔ مظاہرین نے وہاں ایک گاڑی کھڑی کررکھی تھی،فوجی جب اس کو ہٹانے کے لیے پہنچے تو مظاہرین اس کو وہاں سے بھگا کر لے گئے۔

لبنانی فوج نے ایک بیان میں کہا ہے کہ عوام کو احتجاج کا حق حاصل ہے لیکن یہ احتجاج صرف عوامی چوکوں پر ہونا چاہیے۔ہزاروں لبنانی گذشتہ دو ہفتے سے حکمراں اشرافیہ کے خلاف سراپا احتجاج بنے ہوئے ہیں اور ان کے احتجاج کے بعد وزیراعظم سعد الحریری نے منگل کی شب اپنی کابینہ سمیت استعفا دے دیا تھا۔انھوں نے ایک نشری تقریر میں کہا کہ وہ ملک میں جاری بحران کو حل کرنے کی کوشش میں بند گلی میں پہنچ گئے تھے اور انھوں نے اس بحران سے نکلنے کے لیے استعفا دیا ہے۔

ان کا کہنا تھا’’لبنانی عوام 13 روز تک بحران اور معیشت کو مزید انحطاط سے دوچار ہونے سے بچانے کے لیے سیاسی فیصلے کے منتظر رہے ہیں۔اس عرصے کے دوران میں، میں نے عوام کی آواز کو سن کرکوئی حل تلاش کرنے کی کوشش کی ہے۔‘‘

سعد حریری کی اس تقریر سے قبل ان کی مخلوط حکومت میں شامل شیعہ ملیشیا حزب اللہ اور امل تحریک کے حامیوں نے دارالحکومت بیروت میں احتجاجی مظاہرین کے بڑے کیمپ پر دھاوا بول دیا تھا اور وہاں لگے خیموں کو اکھاڑ پھینکا تھا۔کیمپ پر حملہ کرنے والے سیاہ نقاب پوش لاٹھیوں اور ڈنڈوں سے مسلح تھے۔انھوں نے بعض خیموں کو نذر آتش کردیا تھا اور وہاں موجود مظاہرین کو تشدد کا نشانہ بنایا تھا۔

عینی شاہدین کے مطابق سکیورٹی فورسز نے ابتدائی طور پر اس دھینگا مشتی میں کوئی مداخلت نہیں کی تھی جبکہ مظاہرین انھیں مدد کے لیے پکارتے ہی رہ گئے۔حزب اللہ اور امل تحریک کے حملہ آوروں نے ان پر لوہے کے راڈ اور ڈنڈے برسائے جس کے بعد ان کے لیے وہاں سے بھاگ کھڑے ہونے کے سوا کوئی چارہ نہیں رہ گیا تھا۔