.

ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کاعادل عبدالمہدی کی حکومت بچانے کے لیے عراق میں’’ہنگامی مشن‘‘

شیعہ ملیشیاؤں پر مشتمل الحشد الشعبی اور عراقی حکام کے اجلاس کی صدارت ،و وزیراعظم کی حمایت کی تلقین

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کی سپاہِ پاسداران انقلاب کے تحت القدس فورس کے کمانڈر میجر جنرل قاسم سلیمانی نے عراقی وزیراعظم عادل عبدالمہدی کی حکومت بچانے کے لیے بدھ کو بغداد کا خفیہ دورہ کیا ہے اور انھوں نے شیعہ ملیشیاؤں پر مشتمل الحشد الشعبی کے کمانڈروں کو وزیراعظم حیدر العبادی کی حمایت کی تلقین کی ہے۔

عراق میں گذشتہ ہفتے سے دوبارہ حکومت مخالف مظاہرے جاری ہیں۔مظاہرین مہدی حکومت کی کارکردگی پر سوال اٹھارہے ہیں اور اس کی برطرفی کا مطالبہ کررہے ہیں۔برطانوی خبررساں ایجنسی رائیٹرز کے مطابق ایران نے عراق میں اپنی ہم نوا حکومت کو بچانے کے لیے مداخلت کی ہے۔

عراق کے مقبول شیعہ لیڈر مقتدیٰ الصدر نے اسی ہفتے حکومت مخالف جاری احتجاجی مظاہروں کو فرو کرنے کے لیے قبل از وقت انتخابات کرانے کا مطالبہ کیا تھا۔

انھوں نے اپنے سیاسی حریف اور ایران کی حمایت یافتہ شیعہ ملیشیاؤں کے اتحاد کے لیڈر ہادی العامری پر زوردیا تھا کہ وہ عادل عبدالمہدی کی حکومت کو ہٹانے کے لیے ان کی حمایت کریں۔

ایران کے ایک سکیورٹی عہدہ دار نے قاسم سلیمانی کی بدھ کو بغداد میں موجودگی کی تصدیق کی ہے اور کہا ہے کہ وہ وہاں ’’مشورہ‘‘ دینے کے لیے گئے تھے۔

اس ایرانی عہدہ دار نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا کہ ’’عراق کی سلامتی ہمارے لیے اہمیت کی حامل ہے اور ہم نے اس سے پہلے بھی اس ملک کی مددکی ہے۔القدس فورس کے کمانڈر جنرل قاسم سلیمانی وقتاً فوقتاً عراق اور خطے میں دوسرے ممالک کا دورہ کرتے رہتے ہیں،بالخصوص جب وہ ہمیں مدد کے لیے پکاریں تو وہ وہاں جاتے رہتے ہیں۔‘‘

جنرل قاسم سلیمانی کے بارے میں پہلے یہ اطلاع سامنے آئی تھی کہ وہ ہیلی کاپٹر کے ذریعے بغداد کے قلعہ نما گرین زون میں پہنچے تھے اور انھوں نے وہاں عراق کے اعلیٰ سکیورٹی عہدے داروں کے ایک اجلاس کی وزیراعظم عادل عبدالمہدی کی جگہ صدارت کی تھی۔اس پر بعض سکیورٹی حکام ہکا بکا رہ گئے تھے۔

واضح رہے کہ عراق میں مظاہرین ایران سے اپنے ملک کے داخلی امور میں مداخلت بند کرنے کا مطالبہ کررہے ہیں۔عراق میں احتجاجی مظاہرے ارباب اقتدار وسیاست کی بدعنوانیوں ، بے روزگاری اور شہری خدمات کے پست معیار کے خلاف شروع ہوئے تھے لیکن ایران عراق کے علاوہ لبنان میں بھی حالیہ احتجاجی تحریکوں کو دبانے کی کوشش کررہا ہے۔

دو سینیر عہدہ داروں کے بہ قول جنرل سلیمانی نے عراقی حکام سے کہا کہ ’’ہم ایران میں اس معاملے کو زیادہ بہتر جانتے ہیں کہ مظاہرین سے کیسے نمٹا جاسکتا ہے۔ایسا ایران میں بھی ہوا تھا اور ہم نے اس پر قابو پالیا تھا۔

جنرل قاسم سلیمانی کے اس دورے سے صرف ایک روز بعد ہی عراقی مظاہرین اور سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپوں میں ایک سو افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں نے مظاہرین پر براہ راست گولیاں چلائی ہیں۔زیادہ تر مظاہرین کو سر اور چھاتی میں گولیاں لگی ہیں۔گذشتہ ایک ہفتے کے دوران میں قریباً ڈیڑھ سو مظاہرین تشدد کے واقعات میں ہلاک ہوچکے ہیں۔