.

ایردوآن قطر کا مال داؤ پر لگانے میں مصروف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

قطر کے امیر تمیم بن حمد نے 15 اگست 2018 کو اپنی ٹویٹ میں لکھا تھا کہ انقرہ میں صدر رجب طیب ایردوآن کے ساتھ اہم بات چیت کے دوران قطر نے ترکی میں ڈپازٹ اور سرمایہ کاری کے منصوبوں سے متعلق 15 ارب ڈالر کے پیکج کا اعلان کیا ہے۔ قطر کے امیر کا مزید کہنا تھا کہ اُن کا ملک ترکی کے شانہ بشانہ ہے جو ہمیشہ سے امت مسلمہ اور قطر کے ساتھ کھڑا رہا۔ اس ٹویٹ نے قطر کے ترکی کے صدر رجب طیب ایردوآن کے ساتھ تجارتی اور سیاسی تعلق کی نوعیت کو واضح کر دیا۔

قطر نے اپنے خلاف جون 2017 سے جاری چار ملکی بائیکاٹ کا مقابلہ کرنے کے لیے ترکی کا سہارا لیا۔ بعد ازاں دوحہ اس کی بھاری قیمت چکاتے ہوئے ترکی کی سیاسی اور عسکری سرگرمیوں کی فنڈنگ کرنے پر مجبور ہو گیا۔ اس حوالے سے اکثر سرکاری معاہدوں اور سمجھوتوں کا مقصد منافع کا حصول نہیں تھا بلکہ یہ سیاسی ڈیل کا حصہ تھے۔ البتہ دوحہ نے قطری کمپنیوں کو جن تجارتی معاہدوں کا پابند بنایا تھا ان کا نتیجہ ایردوآن حکومت کی پالیسی کے سبب بُرا نکلا۔ ایردوآن حکومت یورپی مجموعے اور امریکا کے ساتھ اختلافات میں پڑ گیا اور ترکی پر امریکی پابندیوں کے سبب قطر کی تمام سرمایہ کاری خسارے سے دوچار ہو گئی۔

دوحہ نے قطر کی 130 کمپنیوں اور قطری سرماریہ کاروں کی ایک بڑی تعداد کو پابند بنایا کہ وہ اقتصادی صورت حال کے بگاڑ کے باوجود ایک بار پھر ترکی میں مختلف سیکٹروں میں اپنا سرمایہ لگائیں۔ ایردوآن نے سیاسی تعاون کے مقابل قطریوں سے بھاری منافع کی واپسی کے وعدے کر لیے۔ ابھی تک ترکی میں تمام سرمایہ کاری بھرپور خساروں سے دوچار ہے اور دونوں حکومتوں کی مفاہمت کی بنا پر قطری سرمایہ کاروں کے لیے اپنی رقوم واپس لینے پر پابندی ہے۔ ترکی کو 2017 میں قطر کے بحران سے فائدہ اٹھانے کا موقع مل گیا اور اس نے دوحہ میں ایک تجارتی بیورو کھول لیا تا کہ ترکی کے مفاد میں سرمایہ کاری حاصل کی جا سکے۔

استنبول میں ایک قطری سرمایہ کار کے بڑے مالیاتی پورٹ فولیو کے عرب مینجر کا کہنا ہے کہ "قطری سرمایہ کاری کی رقوم غلط سیاسی فیصلوں کے سبب بھانپ بن کر اڑ گئیں جن سے نہ ہمیں فائدہ پہنچا اور نہ ترکی کو ... ایردوآن ایک ضدی انسان ہیں جو قطر کا آخری ریال تک قربان کرنے کے لیے تیار ہیں۔ بدترین پہلو یہ ہے کہ ایردوآن نے قطری کمپنیوں کو ترکی میں صرف اُن کمپنیوں کے ساتھ معاملات کا پابند بنایا ہوا ہے جو اُن کی سیاسی ہمنوا ہیں۔ فرانس، برطانیہ اور جرمنی میں ہماری سرمایہ کاری معقول منافع دے رہی ہیں تاہم ترکی میں 2017 کے بعد سے جھونکی جانے والی سرمایہ کاری یورپ میں لگائی گئی رقوم سے زیادہ ہو چکی ہے۔ ترک لیرہ کی قدر میں گراوٹ، ترسیلات زر پر پابندی اور معیشت کے سکڑاؤ کی بدولت صورت حال انتہائی ابتر ہو چکی ہے۔ ترکی میں سرکاری اداروں میں رشوت کا بازار گرم ہے اور ترکی ذمے داران کے ساتھ کام کرنا بہت مشکل ہے۔ کوئی کام بھی رشوت کے بغیر نہیں ہوتا"۔

قطر کی حکومت بھی آئندہ فٹبال ورلڈ کپ کے منصوبوں کو ٹینڈر کے بغیر ترکی کی کمپنیوں کو تھما دینے پر مجبور ہو گئی۔ ترکی کی کمپنیوں نے 14 ارب ڈالر کے 128 منصوبے حاصل کیے۔

قطری صحافت کے مطابق 2018 میں قطر اور ترکی کے درمیان تجارتی تبادلے میں 49% کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا اور یہ سات ارب قطری ریال سے زیادہ بڑھ گیا۔ اس سے قطر کی جانب سے یک طرفہ طور پر مالی رقوم جھونکنے کی واضح عکاسی ہوتی ہے۔

انقرہ میں اقتصادی اور تزویراتی تعاون کے لیے ترک عرب تنظیم کے سربراہ محمد العادل کے انکشاف کے مطابق قطر اور ترکی کے درمیان تزویراتی شراکت داری کا حجم 35 ارب ڈالر تک پہنچ گیا جو ترکی کی خدمات اور معاہدوں کی مد میں تھا۔

ترکی میں چیمبرز اینڈ ایکسچینجز فیڈریشن کے مطابق 15 سال قبل ترکی اور قطر کے درمیان تجارتی تبادلے کا حجم 1.5 کروڑ ڈالر کے لگ بھگ تھا۔ ترکی کی سرکاری نیوز ایجنسی اناضول کے مطابق اب یہ حجم 60 گنا بڑھ کر 90 کروڑ ڈالر تک پہنچ چکا ہے۔

ترکی نے 2018 کے ابتدائی نو ماہ کے دوران قطر کو 485 ٹن کھاد برآمد کی۔ دونوں ملکوں کے درمیان 5.2 ارب ڈالر کے ایک مشترکہ منصوبے کے اعلان کے بعد قطر اور ترکی کے درمیان کیمیکل سیکٹر میں شراکت داری نمو پائے گی۔

ترکی اس بات کا خواہاں ہے کہ قطر بجلی کے پاور اسٹیشنوں کے منصوبے میں 1.2 ارب ڈالر کے قریب فنڈنگ کرے۔ قدرتی گیس سے چلنے والے یہ پاور اسٹیشن ترکی کے دو صوبوں کیرکالے اور کارامان میں واقع ہیں۔

اقتصادی اور تزویراتی تعاون کے لیے ترک عرب تنظیم کے سربراہ محمد العادل کے مطابق قطر کو سرمایہ کاری کے حوالے سے خساروں کا سامنا ہے تاہم وہ سیاسی مقاصد کے لیے خرچ کر رہا ہے۔ اس سلسلے میں دوحہ ترکی میں اپنے بینک (QNB Finansbank) کو استعمال کرتا ہے۔ قطر واحد عرب ملک ہے جس نے ترکی میں ذرائع ابلاغ کے سیکٹر میں سرمایہ کاری کی ہوئی ہے۔ تقریبا ایک ارب ڈالر کی یہ سرمایہ کاری مکمل طور پر غیر منافع بخش اور خالصتا سیاسی نوعیت کی ہے۔ قطر نے ترکی کی دفاعی صنعت میں بھی سرمایہ کاری کی ہے۔

العادل نے مزید بتایا کہ قطر نے نہرِ استنبول کے منصوبے میں سرمایہ کاری کے حوالے سے ترکی کے صدر ایردوآن کی درخواست بھی منظور کر لی ہے۔ دفاعی صنعت میں مشترکہ سرمایہ کاری پر اتفاق دونوں ملکوں کے بیچ شراکت داری میں ایک اہم ٹرننگ پوائنٹ ہے۔