.

ترک حکومت شام میں فوجی کارروائی کے مخالفین کو مسلسل ہراساں کر رہی ہے: ایمنسٹی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

انسانی حقوق کی عالمی تنظیم 'ایمنسٹی انٹرنیشنل' نے ترکی کی حکومت پر سیاسی مخالفین کو ہراساں کرنے اور انہیں مسلسل دبائو میں رکھنے کا الزام عاید کیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم ایمنسٹی کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ انقرہ حکومت شام میں فوجی کارروائی کے مخالفین کو ہراساں کرنے کا سلسلہ بدستور جاری رکھے ہوئے ہے۔

بیان میں کہا گیا ہےکہ ترکی کی حکومت حزب اختلاف کو خوف زدہ کرنے اور انہیں ڈرانےدھمکانے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئےہے۔ شمالی شام میں فوجی کارروائی کی حمایت کرنے والوں کو مسلسل ڈرایا اور دھمکایا جا رہا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ اپوزیشن رہ نمائوں اور سیاسی مخالفین کے خلاف جبر و تشدد کے حربے انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں کے زمرے میں آتے ہیں۔

انسانی حقوق کی تنظیم کا کہنا ہے کہ ترک حکومت اختلاف رائے کے حوالے سے عدم برداشت کی پالیسی پرعمل پیرا ہے۔ شام میں فوجی کارووائی کے خلاف بولنے والے سیاسی رہ نمائوں، صحافیوں اور دیگر شخصیات کو ہراساں کیا جا رہا ہے۔ انہیں دبانے کے لیے نام نہاد انسداد دہشت گردی قوانین کو استعمال کیا جاتا ہے۔ شام میں فوجی آپریشن کی مخالفت کرنے والوں کو دبانے کے لیے ان پر دہشت گردی کےقوانین کی دفعات کے تحت مقدمات قائم کیے جا رہے ہیں۔

ایمنسٹی کا کہنا ہے کہ ایسی متعدد اطلاعات موصول ہوئی ہیں کہ ترک حکام نے ان صحافیوں کو گرفتار کیا جنہوں نے شمالی شام میں اس کے فوجی آپریشن پر تنقید کی اور ساتھ ہی شام میں انقرہ کے حمایت یافتہ دھڑوں کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔

تنظیم نے اکتوبر میں جاری کی جانے والی ایک پچھلی رپورٹ میں اعلان کیا تھا کہ ترکی اور اس کے مسلح گروہوں نے شمال مشرقی شام میں مشرقی فرات کے علاقے پر اپنی کارروائی کے دوران عام شہریوں کے خلاف مہلک حملے شروع کرنے کے علاوہ "جنگی جرائم" کا ارتکاب کیا ہے۔

اس رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ ترک افواج اور ان کی حمایت یافتہ مسلح گروپوں کے اتحاد نے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور جنگی جرائم کا ارتکاب کیا جس کے نتیجے میں عام شہری ہلاک اور زخمی ہونے کے بڑی تعداد میں لوگ بے گھر ہوئے ہیں۔

جنگی جرائم

شام میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی ایلچی نے 23 اکتوبر کو امریکی ایوان نمائندگان میں بریفنگ میں کہا تھا کہ امریکی افواج نے شام میں ترکی کی کردوں کے خلاف کارروائی کے دوران جنگی جرائم کے ثبوت دیکھے ہیں۔

جیمز جیفری نے کہا کہ ہم نے نسل کشی کےشواہد دیکھے اور ایسی بہت سے اطلاعات ہیں جنھیں جنگی جرائم سمجھا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکی عہدیدار ان رپورٹوں کو دیکھ رہے ہیں اور انہوں نے ترک حکومت سے وضاحت طلب کی ہے۔

انہوں نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ امریکی عہدیدار اس رپورٹ کی تحقیقات کر رہے ہیں کہ ترکی نے اپنے حملے کے دوران ممنوعہ سفید فاسفورس کا استعمال کیا تھا۔