.

سعودی عرب نے پناہ گزینوں کے لیے 18 ارب ڈالر پیش کیے : فیصل بن جدید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مملکت سعودی عرب کی جانب سے باور کرایا گیا ہے کہ اُس نے جبری ہجرت اور ترک وطن سے دوچار پناہ گزینوں کی انسانی مشکلات دور کرنے کے لیے تقریبا 18 ارب ڈالر پیش کیے۔

سرکاری خبر رساں ایجنسی SPA کے مطابق یہ بات اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 74 ویں اجلاس کے ضمن میں سعودی عرب کے تھرڈ سکریٹری فیصل بن جدید نے اپنے خطاب میں بتائی۔

بن جدید کے مطابق مملکت نے 50 ہزار افراد کو ان کے اہل خانہ سمیت سعودی شہریت دی۔ اس کے علاوہ 8 لاکھ سے زیادہ مقیم افراد کو شناخت دی گئی جو مملکت میں بے قاعدگی اور غیر منظم طور سے رہ رہے تھے۔ اس طرح اُن کے لیے نقل حرکت، تعلیم اور طبی نگہداشت کا حصول ممکن ہو گیا ہے جب کہ ان افراد کو تمام ٹیکسوں اور جرمانوں سے معافی بھی مل گئی ہے۔

بن جدید نے واضح کیا کہ مملکت کا قانون اپنی سرزمین پر پیدا ہونے والے ہر اُس بچے کو شہریت دیتا ہے جس کے والدین نامعلوم ہوں ... مملکت اس طبقے کے ساتھ اسلامی تعلیمات کے بنیادی اصولوں کے مطابق معاملات کرتی ہے۔

بن جدید کا کہنا تھا کہ سعودی عرب دنیا بھر میں تمام انسانی امور کو سپورٹ کرنے کے لیے اپنا بھرپور کردار ادا کر رہا ہے۔ مملکت کا شمار امدادی ، ترقیاتی اور انسانی امدادات پیش کرنے والے سب سے بڑے ممالک میں ہوتا ہے۔ سعودی عرب نے اس امداد کا ایک بڑا حصہ جنگوں ، تنازعات اور قدرتی آفات سے متاثرہ علاقوں میں پناہ گزیوں کی معاونت کے لیے مختص کر رکھا ہے۔

بن جدید کے مطابق مملکت نے شامی پناہ گزینوں کے لیے 16 کروڑ ڈالر سے زیادہ پیش کیے .. اور اس وقت کنگ سلمان امدادی مرکز کے ذریعے اردن، لبنان، ترکی اور یونان میں شامی پناہ گزینوں کے لیے 129 پروگراموں پر عمل درامد جاری ہے۔ اسی طرح مملکت نے صومالیہ اور جیبوتی میں یمنی پناہ گزینوں کو بھی سپورٹ کیا۔ مذکورہ ممالک میں اس وقت یمنی پناہ گزینوں کی معاونت کے لیے 12 پروگرام جاری ہیں۔ سعودی عرب نے میانمار کے روہینگیا پناہ گزینوں کو بھی 3.8 کروڑ ڈالر سے زیادہ کی امداد پیش کی۔ مملکت نے کچھ عرصہ قبل پناہ گزینوں کے امور سے متعلق اقوام متحدہ کے ہائر کمیشن کے ساتھ مل کر ڈونرز کانفرنس کی سرپرستی کی۔ اس کانفرنس میں روہینگا پناہ گزینوں کے بحران سے نمٹنے کے لیے مشترکہ فنڈنگ کے پلان کے تحت عطیہ کنندگان ممالک سے 25 کروڑ ڈالر سے زیادہ اکٹھا ہوئے۔

فلسطین کے حوالے سے سعودی تھرڈ سکریٹری نے بتایا کہ مملکت نے فلسطینی پناہ گزینوں کے معاملے کی سپورٹ میں 90 کروڑ ڈالر سے زیادہ کی رقم پیش کی۔ کچھ عرصہ قبل مملکت نے فلسطینی پناہ گزینوں سے متعلق اقوام متحدہ کی امدادی ایجنسی کے بجٹ کو سپورٹ کرنے کے لیے 5 کروڈ ڈالر کی رقم پیش کی۔

بن جدید نے اپنے خطاب کے اختتام سے قبل بتایا کہ سعودی عرب میں اس وقت 10.74 لاکھ پناہ گزین رہ رہے ہیں۔ انسانی بنیادوں کے باعث مملکت اُن کے ساتھ پناہ گزینوں والا معاملہ نہیں کرتی بلکہ انہیں خصوصی مقیمین کا درجہ دیتی ہے۔ انہیں تعلیم، صحت اور رہائش کے حوالے سے بنیادی حقوق حاصل ہیں۔