.

سعودی عرب کے میزانیہ 2020ء میں 8 کھرب، 33 ارب ریال کی آمدن متوقع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی وزارت خزانہ نے مالی سال 2020ء کے عمومی بجٹ کے ابتدائی بیان کا اعلان کیا ہے جس میں 1.020 بلین ریال کے کل متوقع اخراجات بیان کیے گئے ہیں۔ تنوع اور معاشی تبدیلی کے منصوبوں پرعمل درآمد کی استعداد کار میں اضافے کے ساتھ اقتصادی اور معاشی ترقی کا سفر جاری رہے گا۔آئندہ مالی سال کے بجٹ میں محصولات کا تخمینہ لگ بھگ 833 ارب ریال لگایا گیا ہے اور بجٹ خسارہ جی ڈی پی کا تقریبا 6.6 فی صد ہے۔

سعودی وزیر خزانہ محمد الجدعان نے کہا کہ بجٹ عام طور پر ہر سال دسمبر میں منظور ہوتا ہے اور اس میں نئی مالی اور معاشی پیش رفت کی روشنی میں تغیر وتبدیلی کی جاتی ہے۔

انہوں نے نشاندہی کی کہ اس سال کے لیے کل اخراجات کا تخمینہ 1.048 ارب ریال ہے۔ حکومت کا مقصد مالی استحکام ، درمیانی مدت میں پائیدار معاشی نمو کو معاشی استحکام کےدو بنیادی ستونوں کے طور پر پیش کرنا ہے۔

سنہ 2019ء کی آمدن

معاشی تخمینوں رواں سال کی آمدن کا اندازہ 917 ارب ریال ہ جو گذشتہ سال کے مقابلے میں 1.2 فیصد زیادہ ہے۔ سال 2019ء کے آخر تک غیر آئل جی ڈی پی 2012ء کے مقابلے میں 7 فیصد سے بڑھ کر 16 فیصد ہوجائے گی۔ پچھلے سال کے جی ڈی پی کے حساب سے بجٹ خسارہ 5.9 فیصد رہا جب کہ رواں سال بجٹ خسارے میں مزید کمی دیکھی گئی ہے۔توقع ہے کہ بجٹ خسارہ 4.7 فیصد تک رہے گا۔

الجدعان نے وضاحت کی کہ مملکت کی مالی پالیسی کا مقصد مالی استحکام کو برقرار رکھنا ، معاشی نمو اور ترقی کو فروغ دینا ، وژن 2030ء کے مطابق معاشی تبدیلی کے مراحل کوآگے بڑھانا، مالی استحکام ، مالیاتی سیکٹر کی کارکردگی اور تاثیر میں اضافہ جاری رکھنا، شہریوں کو فراہم کی جانے والی بنیادی خدمات کو بہتر بنانا، نجی شعبہ ، سرکاری محصولات کے ذرائع کو متنوع بنانے کےلیے موثر اقدامات جاری رکھنا ہے۔

سعودی وزیر خزانہ نے الجدعان کا کہنا ہے کہ مالی سال 2020 کے بجٹ میں معاشی نمو کا بنیادی محرک اور شہریوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنے میں سب سے بڑا ذریعہ ثابت ہوگا جس کے نتیجے میں نجی شعبے میں ملازمت کے بے پناہ مواقع پیدا ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ نجی شعبے میں 22 مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کے مواقع پیدا ہوں گے۔

اگلے سال کے بجٹ میں ہونے والے اخراجات میں مملکت کے وژن 2030 کے حصول کے لیے معاون پروگراموں پر بھی توجہ دی جائے گی جو دیگر منصوبوں کے علاوہ معاشی تبدیلی ، خاص طور پر رہائش ، معیار زندگی ، نجکاری ، بڑے منصوبوں ، اور نجی شعبے کے محرک پیکج کی تکمیل کے اہداف کے حصول کا بنیادی ذریعہ ثابت ہوگی۔