.

نصر اللہ کا بیٹا ۔۔۔ حزب اللہ کے میڈیا اور سخت گیر ٹوئٹس کا ذمے دار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ریاض میں Terrorist Financing Targeting Center نے ایرانی پاسداران انقلاب اور لبنانی حزب اللہ کی سرگرمیوں کو سپورٹ کرنے والے 25 اداروں اور افراد کو بدھ کے روز دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کر کے ان پر پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کیا تھا۔

دہشت گردی کو سپورٹ کرنے والی شخصیات کی فہرست میں حزب اللہ کے سکریٹری جنرل حسن نصر اللہ کے بیٹے محمد جواد کا نام بھی ہے۔

بیروت کے جنوبی نواحی علاقے الضاحیہ میں مقیم جواد کی عمر 29 برس ہے۔ وہ شادی شدہ ہے اور اس کے چار بچے ہیں۔ جواد اپنے بڑے بھائی ہادی کے بعد دوسرے نمبر پر ہے۔ ہادی 1997 میں جنوبی لبنان میں اسرائیلی فوج کے ساتھ مقابلے میں مارا گیا تھا۔ اس کے علاوہ جواد کے دو بھائی محمد علی اور محمد مہدی اور ایک بہن زینب ہے۔ زینب شادی شدہ ہے اور ایران میں دینی تعلیم حاصل کر رہی ہے۔

جواد حزب اللہ کے اسپیشل یونٹس کا ایک اہم کمانڈر شمار ہوتا ہے۔ وہ ایرانی پاسداران انقلاب کی ذیلی تنظیم القدس فورس اور فلسطینی تنظیم حماس کے ساتھ رابطہ کاری کا ذمے دار ہے۔ امریکی وزارت خارجہ اس پر حماس کے مفاد میں کارروائیاں کرنے کے واسطے مالی رقوم جمع کرنے کا الزام عائد کرتی ہے۔

اسپیشل یونٹ کی رکنیت کا حامل ہونے کے علاوہ جواد نصر اللہ ،،، حزب اللہ کے حربی ذرائع ابلاغ کے شعبے میں بھی مصروف عمل ہے۔ وہ میڈیا میں اپنے باپ حسن نصر اللہ کی سرکاری تصاویر تقسیم کرنے کا ذمے دار ہے۔ اس کے علاوہ وہ اخبارات کو خبریں بھی فراہم کرتا ہے۔

امریکی وزارت خارجہ نے گذشتہ برس نومبر میں حماس اور حزب اللہ کے رہ نماؤں کے ساتھ جواد حسن نصر اللہ کو بھی عالمی دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کر لیا تھا۔ ان افراد پر الزام عائد کیا گیا کہ وہ عراق اور شام میں دہشت گردوں کی سپورٹ اور دہشت گرد تنظیموں کو مالی رقوم فراہم کر رہے ہیں۔

امریکی وزارت خارجہ نے جواد کو حزب اللہ کا ابھرتا ہوا رہ نما اور اپنے والد کا جاں نشیں قرار دیا ہے۔ اس پر ایران کو تیل کی اسمگلنگ اور حزب اللہ کے لیے مالی رقوم اکٹھا کرنے کا الزام بھی ہے۔

امریکی وزارت خارجہ کے مطابق جواد ایرانی پاسداران انقلاب کے پرچم تلے جنگجوؤں کو شام بھیجنے کے عمل میں ملوث ہے۔ امریکی شہریوں کے لیے جواد کے ساتھ معاملات اور لین دین کرنا ممنوع ہے۔

جواد نصر اللہ اپنے سخت گیر مواقف اور ٹویٹر پر فتوؤں کے اجرا کے حوالے سے بھی شہرت رکھتا ہے۔ اسی کے نتیجے میں ٹویٹر پر جواد کا اکاؤنٹ ایک سے زیادہ مرتبہ بند کیا جا چکا ہے۔

اسی طرح جواد وڈیوز بھی پوسٹ کرتا ہے جن ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای کو دکھایا جاتا ہے۔