.

بصرہ میں جھڑپوں میں 120افراد زخمی ہوگئے:عراقی انسانی حقوق کمیشن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کے انسانی حقوق کمیشن نے ہفتے کے روز جنوبی شہر بصرہ میں مظاہروں کے دوران میں 120 افراد کے زخمی ہونے کی تصدیق کی ہے۔اس کا کہنا ہے کہ عراقی سکیورٹی فورسز نے مظاہرین پر براہ راست گولیاں چلائی ہیں اور اشک آور گیس کے گولے پھینکے ہیں۔

بصرہ سے عراق کی جنوبی بندرگاہ اُم قصر کی جانب جانے والی شاہراہوں پر ہزاروں افراد نے دھرنا دے رکھا ہے اور بندرگاہ پر گذشتہ بدھ سے تمام سرگرمیاں معطل ہوچکی ہیں۔اس سے ایک روز پہلے منگل کو مظاہرین نے اس کے داخلی راستے کو بند کردیا تھا۔

عراق اپنی غذائی اجناس ، کھانا پکانے کا تیل ،چینی اور خوراک کی دیگر اشیاء اُم قصر کی بندرگاہ کے ذریعے ہی درآمد کرتا ہے۔خوراک کی اشیاء سے لدے ٹرکوں کو بندرگاہ میں داخل ہونے یا وہاں سے باہر نکلنے نہیں دیا جارہا ہے۔پورٹ حکام کا کہنا ہے کہ بندرگاہ کی بندش کی وجہ سے بعض بین الاقوامی شپنگ لائنز نے اپنی سرگرمیاں معطل کردیں۔

مظاہرین نے بصرہ میں واقع مجنون آئیل فیلڈ کی جانب جانے والی شاہراہوں کو بھی بلاک کردیا ہے اور وہ ملازمین کو وہاں سے گذرنے کی اجازت نہیں دے رہے تھے۔تاہم آئیل فیلڈ پر سرگرمیوں معطل نہیں ہوئی ہیں۔

ادھر دارالحکومت بغداد میں جمعہ کو ہزاروں افراد نے احتجاج مظاہرے کیے تھے اور یہ 2003ء میں سابق صدر صدام حسین کی حکومت کے خاتمے کے بعد ملک میں سب سے بڑے مظاہرے تھے۔

واضح رہے کہ بغداد اور جنوبی شہروں میں یکم اکتوبر کے بعد پُرتشدد احتجاجی مظاہروں میں 250 سے زیادہ افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ احتجاجی ریلیوں کے دوران میں عراقی سکیورٹی فورسز نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے براہ راست گولیاں چلائی ہیں جس سے اتنی زیادہ تعداد میں ہلاکتیں ہوئی ہیں۔

مظاہرین دوسرے ممالک کی طرح عراق میں اربابِ اقتداروسیاست کی بدعنوانیوں ، لوٹ کھسوٹ ، معاشی زبوں حالی ، بڑھتی ہوئی مہنگائی اور بے روزگاری اور شہری خدمات کے پست معیار کے خلاف سراپا احتجاج بنے ہوئے ہیں۔