.

شام :روس کے فضائی حملے اور بم دھماکے میں 20 افراد ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کے شمال مغربی صوبہ ادلب میں روسی فوج کے ایک فضائی حملے اور سرحدی قصبے تل ابیض میں کاربم دھماکے میں کم سے کم 20 افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

ترکی کی وزارتِ دفاع نے ہفتے کے روزایک بیان میں کہا ہے کہ تل ابیض میں بم دھماکے میں13 عام شہری ہلاک اور بیس زخمی ہوئے ہیں۔اس نے کرد جنگجوؤں پر اس بم دھماکے کا الزام عاید کیا ہے۔تل ابیض پر ترکی کی سکیورٹی فورسز کا کنٹرول ہے اور انھوں نے گذشتہ ماہ وہاں سے کرد ملیشیا وائی پی جی کے زیر کمان شامی جمہوری فورسز(ایس ڈی ایف) کو نکال باہر کیا ہے۔

برطانیہ میں قائم شامی رصدگاہ برائے انسانی حقوق نے اس بم دھماکے میں 14 افراد کی ہلاکت کی اطلاع دی ہے اور اس نے کہا ہے کہ ان میں ترکی نواز شامی باغی بھی شامل ہیں۔

رصدگاہ کی ایک اور اطلاع کے مطابق صوبہ ادلب کے جنوب میں واقع گاؤں جبلہ پر روس کے ایک فضائی حملے میں چھے شہری مارے گئے ہیں۔ ان تمام کا تعلق ایک ہی خاندان سے تھا۔رصدگاہ نے اس فضائی حملے کا تعیّن پرواز کے انداز ، طیارے اور بمباری میں استعمال کیے گئے بارود سے کیا ہے۔

اس تنظیم کے ڈائریکٹر رامی عبدالرحمان کا کہنا ہے کہ روس کا31 اگست کو ادلب میں اعلانِ جنگ بندی کے بعد یہ سب سے تباہ کن فضائی حملہ ہے۔قبل ازیں اسی صوبے میں روس فضائی حملوں میں آٹھ اور شہری بھی ہلاک ہوچکے ہیں۔

واضح رہے کہ ادلب میں قریباً تیس لاکھ افراد رہ رہے ہیں۔اس صوبے پر اس وقت ماضی میں القاعدہ سے وابستہ تنظیم کی قیادت میں مختلف باغی گروپوں کا کنٹرول ہے اور یہاں شام کے دوسرے صوبوں سے بھی اہلِ سُنت کی آبادی کو لابسایا گیا ہے۔

شامی صدر بشارالاسد کی فوج نے اپریل میں ادلب کو بھی سرنگوں کرنے کے لیے باغی گروپوں کے خلاف تباہ کن فوجی مہم شروع کی تھی۔اس کے نتیجے میں کم سے کم ایک ہزار افراد ہلاک اور چار لاکھ سے زیادہ بے گھر ہوگئے تھے لیکن اگست میں شامی حکومت کے پشتیبان روس نے ترکی اور ایران کے ساتھ مذاکرات کے بعد اس صوبے میں جنگ بندی کا اعلان کیا تھا۔

تاہم تب سے متحارب فوجوں کے درمیان وقفے وقفے سے جھڑپیں جاری ہیں۔ جمعہ کو ادلب کے مغربی حصے میں جھڑپوں میں اسد نواز23 جنگجو اور 11 باغی ہلاک ہوگئے تھے۔بشارالاسد نے گذشتہ ہفتے ادلب کا بعض علاقوں کا دورہ کیا تھا۔2011ء میں اپنے خلاف مسلح بغاوت کے بعد ان کا اس جنگ زدہ علاقے کا یہ پہلا دورہ تھا۔