.

عراقی فورسز کی مظاہرین کے خلاف کارروائی میں ایک شخص ہلاک ،91زخمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کے دارالحکومت بغداد میں ہفتے کے روز ہزاروں افراد حکومت مخالف احتجاجی مظاہرے میں حصہ لےرہے ہیں جبکہ سکیورٹی فورسز کی فائرنگ سے مظاہرے میں شریک ایک شخص ہلاک اور 91 زخمی ہوگئے ہیں۔

بغداد کے تحریر چوک میں گذشتہ ایک ہفتے کے دوران میں مظاہرین کی تعداد میں اچانک اضافہ ہوگیا ہے اور وہ حکومت کی برطرفی کا مطالبہ کررہے ہیں۔ان مظاہروں میں نسلی اور فرقہ وار پہچان سے ہٹ کر عراقی شہری شرکت کررہے ہیں اور ان کی بدولت اس احتجاجی تحریک نے بھی زور پکڑا ہے۔

اطلاعات کے مطابق مظاہرین دن کے آغاز میں پُرامن ہوتے ہیں لیکن وہ پولیس کی جانب سے اشک آور گیس یا آتشیں اسلحہ کے استعمال کے بعد مشتعل ہوجاتے ہیں۔ آج ہفتے کے روز قلعہ نما گرین زون سے شہر کو ملانے والے دریائے دجلہ کے جمہوریہ پل کے آس پاس پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں ہوئی ہیں۔

گرین زون میں عراقی پارلیمان ، سرکاری دفاتر اور غیرملکی سفارت خانے واقع ہیں۔ عراقی شہریوں کا کہنا ہے کہ اس قلعہ بند علاقے میں ملک کی حکمراں اشرافیہ رہتی ہے جس کا عوام کو درپیش مسائل سے کوئی سروکار نہیں اور وہ ان ہی کی بدعنوانیوں کے خلاف سراپا احتجاج بنے ہوئے ہیں۔

واضح رہے کہ بغداد اور عراق کے جنوبی شہروں میں یکم اکتوبر کے بعد پُرتشدد احتجاجی مظاہروں میں ڈھائی سو سے زیادہ افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ احتجاجی ریلیوں کے دوران میں عراقی سکیورٹی فورسز نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے براہ راست گولیاں چلائی ہیں جس سے اتنی زیادہ تعداد میں ہلاکتیں ہوئی ہیں۔

مظاہرین دوسرے ممالک کی طرح عراق میں اربابِ اقتداروسیاست کی بدعنوانیوں ، لوٹ کھسوٹ ، معاشی زبوں حالی ، بڑھتی ہوئی مہنگائی، بے روزگاری اور شہری خدمات کے پست معیار کے خلاف سراپا احتجاج بنے ہوئے ہیں۔