.

عراق میں مظاہروں کے دوران ایرانی لیڈروں کی تصاویر روند ڈالیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی طرف سے بدھ کے روز جاری ایک بیان میں عوامی احتجاجی مظاہروں کو امریکا اور اسرائیل کی سازش سے چلائی جانے والی مہم قرار دیا تھا جس پر عراقی عوام میں شدید رد عمل پایا جا رہا ہے۔ گذشتہ روز عراق کے مختلف شہروں میں ہونے والے احتجاجی مظاہروں کے دوران مظاہرین نے ایرانی لیڈروں آیت اللہ علی خامنہ ای اور القدس فورس کے سربراہ جنرل قاسم سلیمانی کی تصاویر روند ڈالیں۔

عراق کے دارالحکومت بغداد میں ہونے والےمظاہروں نے دوران مظاہرین نے خامنہ ای اور سلیمانی کی تصاویر اور ان کے پوسٹر نذرآتش کیے اور ایران کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔

مظاہرین نے ہاتھوں میں بینرز اور کتبے اٹھا رکھے تھے جن پر 'بغداد آزاد ہے جو ایران کا با ج گزار نہیں بنے گا' کے نعرے درج تھے۔

سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی متعدد ویڈیوز میں بھی عراقی مظاہرین کو ایرانی لیڈروں کی تصاویر مسخ کرتے دیکھا جاسکتا ہے۔

العربیہ چینل کے نامہ نگار کے مطابق جمعہ کے روز ہزاروں مظاہرین نے بغداد اور جنوبی علاقوں میں حکومت کے خلاف مظاہروں میں حصہ لیا۔

سیکیورٹی ذرائع نے 'العربیہ' کو بتایا کہ مظاہروں کے دوران کسی قسم کی گڑبڑ روکنے کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کی بڑی تعداد تعینات کی گئی ہے۔