.

عراق :اسکول اور سرکاری ادارے بند،اساتذہ یونین کی مظاہرین کے حق میں ملک گیر ہڑتال

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق میں اتوار کو بدستورمظاہرے جاری ہیں،اسکول اور سرکاری ادارے بند ہیں اور اساتذہ یونین نے مظاہرین کے ساتھ اظہار یک جہتی کے طور پر ملک گیر ہڑتال کا اعلان کیا ہے۔

وزارتِ تعلیم نے یونین کی ہڑتال کی اپیل کو نظرانداز کرتے ہوئے آج چھٹی نہیں کی اور ایک اعلامیہ جاری کیا ہے جس میں کہا ہے کہہ آج کام کا دن ہےمگر دارالحکومت بغداد ، بصرہ ، ناصریہ اور ہلہ میں منتظمین نے وزارت کے اس بیان کو نظر انداز کردیا ہے اور مظاہرین کی حمایت میں ہڑتال کی ہے۔

مظاہرین نے بغداد اور دوسرے شہروں میں ٹائر اور لکڑیاں جلا کر شاہراہیں بند کردیں جس سے ٹریفک جام ہوگیا۔ مظاہرے میں شریک تحسین ناصر نامی ایک شہری کا کہنا تھا کہ ’’ہم نےحکومت کو پیغام دینے کے لیے شاہراہوں کو بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ہم بدعنوان افراد اور چوروں کو اقتدار سے نکال باہر کرنے اور حکومت کا دھڑن تختہ ہونے تک احتجاج جاری رکھیں گے۔‘‘

اس کا کہنا تھا کہ’’ ہم سرکاری ملازمین کو ان کے دفاتر تک جانے کی اجازت نہیں دے رہے ہیں اور صرف انسانی شعبے میں کام کرنے والوں کو جانے کی اجازت دے رہے ہیں۔‘‘

بغداد میں ہفتے کے روز بھی ہزاروں افراد نے حکومت مخالف احتجاجی مظاہرے میں حصہ لیا تھا جبکہ سکیورٹی فورسز کی فائرنگ سے مظاہرے میں شریک ایک شخص ہلاک اور 91 زخمی ہوگئے تھے۔

بغداد کے تحریر چوک میں گذشتہ ایک ہفتے کے دوران میں مظاہرین کی تعداد میں اچانک اضافہ دیکھنے میں آیا ہے اور وہ ارباب اقتدار کی برطرفی کا مطالبہ کررہے ہیں۔ان مظاہروں میں نسلی اور فرقہ وار پہچان سے ہٹ کر عراقی شہری شرکت کررہے ہیں اور ان کی بدولت اس احتجاجی تحریک نے زور پکڑا ہے۔

اطلاعات کے مطابق مظاہرین دن کے آغاز میں پُرامن ہوتے ہیں لیکن وہ پولیس کی جانب سے اشک آور گیس یا آتشیں اسلحہ کے استعمال کے بعد مشتعل ہوجاتے ہیں۔گذشتہ روز قلعہ نما گرین زون سے شہر کو ملانے والے دریائے دجلہ کے جمہوریہ پل کے آس پاس پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں ہوئی تھیں۔

گرین زون میں عراقی پارلیمان ، سرکاری دفاتر اور غیرملکی سفارت خانے واقع ہیں۔ عراقی شہریوں کا کہنا ہے کہ اس قلعہ بند علاقے میں ملک کی حکمراں اشرافیہ رہتی ہے جس کا عوام کو درپیش مسائل سے کوئی سروکار نہیں اور وہ ان ہی کی بدعنوانیوں کے خلاف سراپا احتجاج بنے ہوئے ہیں۔

واضح رہے کہ بغداد اور عراق کے جنوبی شہروں میں یکم اکتوبر کے بعد پُرتشدد احتجاجی مظاہروں میں ڈھائی سو سے زیادہ افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ احتجاجی ریلیوں کے دوران میں عراقی سکیورٹی فورسز نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے براہ راست گولیاں چلائی تھیں جس سے اتنی زیادہ تعداد میں ہلاکتیں ہوئی ہیں۔

مظاہرین دوسرے خلیجی عرب ممالک کی طرح عراق میں اربابِ اقتداروسیاست کی بدعنوانیوں ، لوٹ کھسوٹ ، معاشی زبوں حالی ، بڑھتی ہوئی مہنگائی، بے روزگاری اور شہری خدمات کے پست معیار کے خلاف سراپا احتجاج بنے ہوئے ہیں۔