.

عراق میں ایرانی مصنوعات کے بائیکاٹ کی مہم زور پکڑ گئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق میں جاری حکومت مخالف مظاہروں میں ایرانی لیڈر شپ کے خلاف نعرے بازے اور ایران کی عراق کے داخلی امور میں مداخلت کی مذمت کے بعد سوشل میڈیا پر جاری ایک مہم میں ایرانی مصنوعات کے بائیکاٹ کا مطالبہ زور پکڑ گیا ہے۔

'ایرانی مصنوعات کو دفع کرو' کے عنوانات کے تحت سوشل میڈیا پرجاری اس مہم میں شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ ایرانی مصنوعات کی خریداری کا بائیکاٹ کریں۔

یہ مہم ایک ایسے وقت میں شروع کی گئی ہے جب حال ہی میں عراق کے مختلف شہروں میں ہونے والے مظاہروں کے دوران مظاہرین نے قدس فورس کے کمانڈر قاسم سلیمانی اور ایرانی رہبر اعلیٰ علی خامنہ ای کے پتلے نذرآتش کیے اور ان کی تصاویر مسخ کی تھیں۔

مظاہرین کی طرف سے عراق کے اندرونی معاملات میں تہران کی مداخلت کی شدید مذمت کے ساتھ ایرانی حکومت کے خلاف سخت غم وغصے کا اظہار کیا گیا۔

سوشل میڈیا پرایرانی مصنوعات کے بائیکاٹ کے حوالے سے جاری تحریک میں ایران میں تیار ہونے والی ہرطرح کی اشیاء کے بائیکاٹ پر زور دیا گیا ہے۔

عراق کے سرکردہ شیعہ رہ نما آیت اللہ علی السیستانی کے نمائندے نے جُمعہ کے روز کربلا میں ایک خطبہ کے دوران کہا ہے کہ عراقیوں کی مرضی کے بغیر ان پر اپنی رائے مسلط کرنے کی کسی کو اجازت نہیں دی جائے گی۔

خیال رہے کہ بہت سے عراقی موجودہ سیاسی طبقے کو ایران کا وفادار سمجھتے ہیں۔ وہ عراق کو امریکا اور ایران کے مابین علاقائی تسلط کی جدوجہد کے ایک پراکسی میدان کے طور پربھی دیکھ رہے ہیں۔ دیکھتے ہیں۔