.

اردن کی کابینہ وزارتوں میں متوقع ردوبدل سے قبل مستعفی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اردن کی کابینہ وزارتوں اور محکموں میں ردوبدل اور انضمام سے قبل مستعفی ہوگئی ہے۔

اردنی وزیراعظم عمرالرزاز اقتصادی اصلاحات کو عملی جامہ پہنانے کے لیے اپنی کابینہ میں رد وبدل کررہے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس طرح انھیں معاشی اصلاحات کے لیے درکار مینڈیٹ حاصل ہوجائے گا۔

اردن کی سرکاری خبررساں ایجنسی بطرا نے سوموار کو ان کا ایک بیان نقل کیا ہے جس میں انھوں نے کہا ہے کہ ’’آنے والے وقت میں درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے کابینہ کا استعفا ضروری تھا۔‘‘

فوری طور پر یہ واضح نہیں ہوا کہ کابینہ اور وزارتوں میں کیا کیا تبدیلیاں کی جارہی ہیں۔البتہ ایک عہدہ دار کا کہنا ہے کہ اس سے اہم قلم دانوں پر فرق نہیں پڑے گا بلکہ بعض وزارتوں کو ایک دوسرے میں ضم کردیا جائے گا تاکہ فالتو اخراجات پر قابو پایا جاسکے۔

بین الاقوامی مالیاتی فنڈ(آئی ایم ایف) کے تجویز کردہ کفایت شعاری کے منصوبے کے تحت اردن کو اپنے اخراجات پر قابو پانا ہوگا تاکہ اس کے گردشی قرضے میں کمی لائی جاسکے۔اس وقت اردن کے اس قرضے کا حجم 40 ارب ڈالر کےلگ بھگ ہے اور یہ مجموعی قومی پیداوار کے 95 فی صد کے برابر ہے۔

اردن کے شاہ عبداللہ دوم نے 2018ء میں عمرالرزاز کو وزیراعظم مقرر کیا تھا۔ تب ملک میں ٹیکسوں کی شرح میں اضافے کے خلاف احتجاجی مظاہرے جاری تھے۔ اردنی حکومت نے گردشی قرضوں پر قابو پانے کے لیے آئی ایم ایف کی تجویز پر محاصل کی شرح میں اضافہ کیا تھا۔عمرالرزاز وزارتِ عظمیٰ کا منصب سنبھالنے کے بعد سے معیشت کی بحالی کے لیے اصلاحات کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہیں تاکہ اردن پر عالمی اداروں کے اعتماد کو بحال کیا جاسکے۔