.

لبنان میں حکومت مخالف مظاہرین پھر سڑکوں پر آگئے ،آج عام ہڑتال کی اپیل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنان میں اتوار کو مظاہرین ایک مرتبہ پھر سڑکوں پر آگئے ہیں۔انھوں نے آج (سوموار کو) عام ہڑتال کی اپیل کی ہے اور حکمراں اشرافیہ سے استعفے کے مطالبے کا اعادہ کیا ہے۔

العربیہ کے نمایندے کی اطلاع کے مطابق ہزاروں کی تعداد میں لبنانی بیروت کے وسطی علاقے میں ریاض الصلح چوک اور شہداء چوک میں جمع تھے۔ان میں بہت سوں کا کہنا ہے کہ وہ اپنے مطالبات کے پورا ہونے تک حکومت مخالف احتجاج جاری رکھیں گے۔انھوں نے عام ہڑتال اور ملک بھر کی تمام شاہراہیں بند کرنے کی اپیل کی ہے تاکہ تمام ارباب اقتدار کی برطرفی کے مطالبے کو تسلیم کرایا جاسکے۔

لبنانی وزیراعظم سعد الحریری گذشتہ منگل کو پہلے ہی ملک گیر احتجاجی مظاہروں کے بعد اپنے عہدے سے مستعفی ہوچکے ہیں۔اس کے بعد سے لبنانی معیشت کی بحالی کے لیے اعلان کردہ اصلاحات پر عمل درآمد مشکل نظر آرہا ہے۔

مظاہرین اب تمام حکمراں اشرافیہ سے اقتدار چھوڑنے کا مطالبہ کررہے ہیں اور دارالحکومت کے شمال اور جنوب میں اکٹھے ہونے والے جمِ غفیر نے صدر میشیل عون کی خود کو مظاہرین کے مطالبات پر عمل درآمد کے لیے ضامن بنانے کی پیش کش کو مسترد کردیا ہے۔مظاہرین کا کہنا تھا کہ ان کی تمام حکمراں اشرافیہ سے مراد تمام ارباب اقتدار ہی ہیں اور وہی اس موجودہ بحران کے ذمے دار ہیں ،اس لیے وہ سب اقتدار چھوڑ دیں۔

قبل ازیں اتوار کو صدر میشیل عون کے ہزاروں حامیوں نے بھی بیروت کے نواح میں ایک ریلی میں شرکت کی تھی۔انھوں نے ان کی جماعت فری پیٹریاٹک موومنٹ کے پرچم تھام رکھے تھے اورصدارتی محل کی جانے والی مرکزی شاہراہ پر پڑاؤ کررکھا تھا۔

لبنان میں 17 اکتوبر سے جاری احتجاجی تحریک کے بعد صدر عون کی حمایت میں یہ سب سے بڑا مظاہرہ تھا۔خود صدر نے ایک نشری تقریر میں مظاہرین سے ملک میں کرپشن کے خاتمے کے لیے حکومت کی کاوشوں میں ساتھ دینے کی اپیل کی ہے۔ان کے بہ قول کرپشن نے ریاست کو ایک جال کی طرح اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ملک سے بدعنوانی کے خاتمے ، معیشت کی بحالی اور ایک شہری ریاست کے قیام کے لیے تین نکاتی منصوبہ وضع کر لیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ وزیراعظم سعد الحریری کے استعفے کے بعد لبنان کے طول وعرض میں حکومت مخالف مظاہروں کی شدت میں کمی آئی تھی۔ تاہم چھوٹے چھوٹے گروپ سڑکوں پر موجود رہے ہیں اور وہ ٹیکنو کریٹس پر مشتمل نئی حکومت کی تشکیل کا مطالبہ کررہے ہیں تاکہ ملکی معیشت کی بحالی کے لیے درکار اصلاحات کو عملی جامہ پہنایا جاسکے۔

ان مظاہرین کا کہنا ہے کہ اگر ان کی امنگوں کے مطابق نئی حکومت تشکیل نہیں پاتی ہے تو وہ پھر دوبارہ سڑکوں پر ہوں گے اور اپنے مطالبات کے پورا ہونے تک احتجاج جاری رکھیں گے۔ وہ حکمراں اشرافیہ کی بدعنوانیوں، بے روزگاری اور معاشی زبوں حالی کے خلاف سراپا احتجاج بنے ہوئے ہیں۔تاہم ایران نواز شیعہ ملیشیا حزب اللہ کا کہنا ہے کہ سعد الحریری کے استعفے سے ان اصلاحات کے لیے درکار وقت ضائع کردیا گیا ہے۔