.

ترکی کے ڈرون طیاروں کا شمالی شام میں گندم کے گوداموں پر حملہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں انسانی حقوق کے مرکزی نگراں گروپ المرصد کے مطابق عین عیسی ڈسٹرکٹ میں سیرین ڈیموکریٹک فورسز (ایس ڈی ایف) اور ترکی کی فوج کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئی ہیں۔ اس دوران ترکی کی فوج کے ڈرون طیاروں نے شرکراک کے علاقے پر حملے کیے اور شرکراک میں گندم کے گوداموں کو نشانہ بنایا گیا۔ یہ کارروائی ترک فوج اور اس کے ہمنوا گروپوں کی جانب سے مذکورہ گوداموں پر کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش کا حصہ تھی۔

المرصد کے مطابق بم باری میں ایک ایمبولینس کی گاڑی بھی نشانہ بنی جو زخمیوں کو نکالنے کا کام کر رہی تھی۔

اس سے قبل ابو راسین اور تل تمر پر شدید گولہ باری کے نتیجے میں ایس ڈی ایف کے دو ارکان ہلاک اور ایک زخمی ہو گیا۔

یاد رہے کہ بدھ کی سہ پہر سے شروع ہونے والے عسکری آپریشن کے بعد ترکی کی فضائی اور زمینی بم باری اور ترک فورسز اور اس کے ہمنوا گروپوں کے ساتھ جھڑپوں میں اب تک سیرین ڈیموکریٹک فورسز، عسکری کونسلز اور داخلہ سیکورٹی فورسز کے 297 ارکان ہلاک ہو چکے ہیں۔ المرصد نے بشار کی شامی فوج کے 24 ارکان کے مارے جانے اور متعدد کے زخمی ہونے کی تصدیق کی ہے۔ یہ جانی نقصان ترکی کی فورسز اور اس کے ہمنوا گروپوں کی جانب سے منبج کے شمال مغرب اور عین عیسی کے مشرق میں میزائل حملے کے نتیجے میں ہوا۔ اسی دوران ایس ڈی ایف کے ساتھ جھڑپوں میں ترکی کے ہمنوا شامی گروپوں کے مارے جانے والے ارکان کی تعداد 240 تک پہنچ چکی ہے۔ ان کے علاوہ 10 ترک فوجی بھی اپنی جانوں سے ہاتھ دھو چکے ہیں۔ درجنوں زخمیوں میں بعض کی حالت تشویش ناک ہونے کے سبب ہلاکتوں کی تعداد بڑھنے کا اندیشہ ہے۔