.

عراق میں احتجاج کنندگان کے قتل اور اغوا پر امریکی سفارت خانے کی مذمت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بغداد میں امریکی سفارت خانے نے عراقی سیکورٹی فورسز کے ہاتھوں احتجاج کنندگان کی ہلاکت اور اغوا کی مذمت کی ہے۔

بدھ کے روز جاری ایک بیان میں سفارت خانے نے کہا "ہم نہتے احتجاج کنندگان کے قتل، اغوا، آزادی رائے کو درپیش خطرے اور تشدد کی موجودہ لہر کی پُر زور مذمت کرتے ہیں۔ عراقی عوام کو اپنے ملک کے مستقبل کے حوالے سے فیصلے کے سلسلے میں آزاد ہونا چاہیے"۔

بیان میں واضح کیا گیا کہ امریکا ہمیشہ سے ایک محفوظ اور ترقی پاتے عراق کا خواہاں رہا ہے جو پُر تشدد اور انتہا پسند عناصر کے خلاف اپنے عوام کا دفاع کرنے پر قادر ہو ... اور عراق کی خود مختاری اور جمہوریت کو سبوتاژ کرنے والوں کو منہ توڑ جواب دے سکے۔

سفارت خانے نے زور دیا کہ یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ عراقی حکومت اور سیاسی قیادت پر لازم ہے کہ وہ اصلاحات کا مطالبہ کرنے والے عراقی شہریوں کے ساتھ جلد اور سنجیدگی کے ساتھ تعامل کو یقینی بنائیں۔ بیان میں باور کرایا گیا کہ "عوام کے ارادے کو کچلنے سے عراق کا کوئی مستقبل نہیں ہو گا"۔

اس سے قبل امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے عراق اور لبنان پر ایرانی غلبے کے خلاف دونوں ملکوں کے احتجاج کنندگان کی مدد کا اعلان کیا تھا۔ انہوں نے ایرانی نظام پر الزام عائد کیا کہ وہ انقلاب کی شکل میں عراق اور لبنان میں بدعنوانی برآمد کرنے پر تُلا ہوا ہے۔

ٹویٹر پر اپنے بیان میں امریکی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ "عراق اور لبنان کو پورا حق ہے کہ وہ اپنے خصوصی امور کو خامنہ ای کی مداخلت سے پاک رکھتے ہوئے خود چلائیں"۔