.

نیپکن ٹشوز پر آرٹ کے شاہکار بنانے والے سعودی سے ملیے: تصاویر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پینٹنگ اور مصوری کے شوقین سعودی نوجوان نے ٹشو پیر سے بنے ہوئے نپکنز کو فنکارانہ صلاحیتوں کے اظہار کا نیا میڈیم بنا کر منفرد آرٹ ورک تیار کیا ہے جس کی اندرون ملک اور سوشل میڈیا پر انہیں ڈھیروں داد موصول ہو رہی ہے۔

ٹشو پیپرز پر منفرد شاہکار بنانے والے عبداللہ طالب الحامد مخصوص بچوں کے ایک مدرسے میں استاد کے فرائض سرانجام دیتے ہیں۔ ان کا کہا ہے کہ وہ یہ کام محض شوقیہ کرتے ہیں۔ انھوں نے زندگی میں کبھی کوئی پینٹنگ نہیں بنائی۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا ہے کہ ’اپنی پینٹنگ کے لیے غیر معروف اور غیر روایتی طریقہ اختیار کرنے کی وجہ اتفاقیہ ہے‘۔

انھوں نے بتایا ہے کہ ’کسی ادارے کی انتظار گاہ میں یا کسی کیفے میں فارغ بیٹھے ہوئے ٹشو پیپر پر الٹی سیدھی لکیریں پھیرنا شروع کیں تو وقت کے ساتھ ان میں نکھار آتا گیا‘۔

کیفے اور ریستورانوں میں گاہکوں کو پیش کئے جانے والے ٹیشو مجھے اپنی طرف کھینچتے ہیں۔ انہیں دیکھ کر مجھ سے رہا نہیں جاتا اور پھر کچھ نہ کچھ ان پر لکھنا شروع کردیتا ہوں‘۔

وہ کہتے ہیں ’میں خود کو مشاق نہیں سمجھتا بلکہ محض شوقیہ کام کرتا ہوں۔ جب میں نے دیکھا کہ ٹیشو پیپر پر میری تیار کردہ پینٹنگ خوبصورت لگ رہی ہیں تو یوٹیوب کے ذریعہ اپنے فن کو نکھارنے کی کوشش کی‘۔

انھوں نے کہا ہے کہ ’سرچ کرنے پر معلوم ہوا کہ دنیا میں بہت سے لوگ ایسے ہیں جو ٹشو پیپر پر شاہکار تخلیق کرنے کا فن جانتے ہیں۔ ان کی ویڈیو دیکھ دیکھ کر سیکھنے کی کوشش کی‘۔

انھوں نے بتایا کہ ’ٹشو پیپر پر پینٹنگ کرنا عام پیپر پر پینٹنگ کرنے سے زیادہ مشکل ہے۔ یہ ٹشو پیپر کی نوعیت پر ہے کہ وہ کس کوالٹی کا ہے۔ بعض کوالٹی کے ٹشو پیپر زیادہ سیاہی جذب کرتے ہیں جبکہ بعض بہت ناز ک ہوتے ہیں کہ ان پر قلم چلانا مشکل ہوجاتا ہے کہ وہ پھٹ جاتے ہیں‘۔

انھوں نے کہا ہے کہ ’انتظار کے لمحات کو پینٹنگ میں گزارتا ہوں۔ جب میرے پاس کافی ساری پینٹنگ ہوگئیں تو ٹویٹر پر شیئر کردیں جس پر بہت سے لوگوں نے ان کی تعریف کی ‘۔

انھوں نے بتایا ہے کہ ’اس وقت میں فن اور ادب کی دنیا سے تعلق رکھنے والے 15 افراد کی پینٹنگ ایک ہی ٹشو پیپر پر بنانے کی کوشش کر رہا ہوں۔ یہ کام بہت مشکل بھی ہے کیونکہ اس میں غلطی کی تصحیح نہیں ہوسکتی۔ ایک غلطی کی وجہ سے سارا کام دوبارہ کرنا پڑتا ہے‘۔