.

'شیف' کے پیشے نے سعودی خاتون کو'سعودی باربی' کیسے بنایا؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا کی بچوں کے کھلونے تیار کرنے والی کمپنی 'میٹل' نے اپنی مشہور گڑیا 'باربی' کی 60 ویں سالگرہ پر ایک سعودی شیف دوشیزہ کو 'سعودی باربی گڑیا' کے طور پر منتخب کیا ہے۔

الولوہ العزہ نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ امریکی کمپنی نے مجھ سے رابطہ کیا اور مجھے'سعودی عرب کی باربی گڑیا' کا کردار نبھانے کو کہا ہے۔

اس نے بتایا کہ میں دبئی گئی جہاں میں نے میٹل کمپنی کی مشہور زمانہ گڑیا 'باربی' دیکھی جو کافی حد تک مجھ سے مشابہ تھی۔ میں نے فورا اس کی تصاویر لے کراپنے بچوں اوراہل خانہ کو بھیجیں۔

العزہ نے کہا کہ مجھے اس مقام تک پہنچنے اور اپنی تمنا پوری کرنے میں 20 سال لگے۔ میں نے طویل عرصے تک طالبات کو کھانے پکانے سکھائے۔ مگر میں بے تابی اور صبر کے ساتھ اپنی منزل کے حصول کی منتظر رہی۔ یہاں تک کہ مجھے یہ تاریخی لمحہ مل گیا۔ میں نے اپنی مسلسل محنت اور ثابت قدمی سے وہ مقام پالیا۔

ایک سوال کے جواب میں شیف سے 'سعودی باربی' بننے والی لڑکی نے بتایا کہ امریکی کمپنی نے اسے "سعودی باربی" بننے کے لیے منتخب کیا کیونکہ میں گھروں میں لڑکیوں کو کھانے پکانے کے طریقے سکھانے والی پہلی خاتون ہوں جب کہ سعودی عرب میں خواتین کے شیف کے پیشے میں کام کا رواج نہیں تھا۔

انہوں نے کہا کہ میرے انسٹاگرام اکاؤنٹ کے فالورز مجھے سے بہت متاثر ہوئے اور ان میں کئی طالبات میرے پاس کھانے پکانے کے طریقے سمجھنے کے لیے آنے لگیں۔

شیف لولوہ نے زور دے کر کہا کہ وہ اپنے اور اپنے کام کی ترقی کے منتظر ہیں۔ اس نے انکشاف کیا کہ وہ ریستوران کی ایک چینل بنانا چاہتی ہیں۔ اس کے علاوہ وہ ایک ایسی اکیڈمی قائم کرنا چاہتی ہیں جس میں بچوں کو ککنگ کی تعلیم دینے کے ساتھ انہیں مستند استناد بھی جاری کی جاسکیں۔

ایک سوال کے جواب میں اس نے کہا کہ ویژن 2030ء میں خواتین کو کام کی آزادی دینے کا اعلان کیا گیا ہے۔ یہ ویژن سعودی عرب میں خواتین کے روشن مستقبل کی طرف اہم قدم ہے۔

اس کا کہنا تھا کہ سعودی خواتین عالمی باربی بن سکتی ہیں۔وہ دوسروں سے کسی بھی طور پرکام نہیں ہیں۔ سعودی باربی شیف کو ممتاز اور عالمی بنایا جا سکتا ہے۔