.

امریکا نے ترکی سے اسلحہ معاہدوں،شام میں جنگی جرائم کی تحقیقات شروع کردیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا نے ترکی کے ساتھ کیے گئے اسلحہ کے معاہدوں اور شام میں ترکی کی فوجی کارروائی کے دوران جنگی جرائم کے ارتکاب کی خبروں کی تحقیقات شروع کردی ہیں۔ امریکا یہ جاننے کہ کوشش کررہا ہے کہ آیا انقرہ نے شام میں فوجی کارروائی کے دوران امریکا کے ساتھ اسلحہ کے معاہدوں میں طے پائی شرائط کی خلاف ورزی کی ہے یا نہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق امریکی انتظامیہ کے عہدے داروں کا کہنا ہے کہ ممکن ہے کہ ترک فوج نے کُردوں کے خلاف جنگی جرائم کا ارتکاب کیا ہو ، اور ایسی اطلاعات ہیں کہ ترکی نے شام میں اپنی کارروائیوں کو نمایاں طور پر بڑھایا ہے۔ امریکی ٹی وی چینل 'سی این این' کے مطابق شام میں وسیع پیمانے پر فوجی کارروائی کرکے انقرہ امریکا کے ساتھ طے پائے دفاعی معاہدوں کی خلاف ورزی کا مرتکب ہو ہوا ہے۔

معتبر الزامات

پینٹاگون کی ترجمان لیفٹیننٹ کرنل کارلا گلیسن نے بدھ کے روز 'سی این این کو بتایا کہ اسلحہ کے استعمال اور اس کی نگرانی کے عمل کے دورانامریکا ہمیشہ ترکی کے بارے میں معتبر الزامات کی تحقیقات کرتا ہے۔

ایک اور امریکی دفاعی عہدیدار نے 'سی این این' کو بتایا کہ حکومت اب یہ مانتی ہے کہ ترکی کی جانب سے شام میں فوجی کارروائی کے دوران امریکا سے طے پائے معاہدوں کی خلاف ورزی کے الزامات "قابل اعتبار"ہیں۔ ان الزمات کے بعد پینٹا گان نے انقرہ کے ساتھ طے پائے دفاعی سمجھوتوں پر نظر ثانی کا اشارہ دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ امریکا اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کام کر رہا ہے کہ امریکی دفاعی سازوسامان مطلوبہ شرائط کے مطابق استعمال ہو۔

پابندیوں کا مطالبہ

شمالی شام میں ترکی کی فوجی مداخلت اور کردوں کے خلاف طاقت کے استعمال کے بعد امریکی کانگرس میں حکومت کے حامی اور ارکان اور حزب اختلافات دونوں نے ترکی کو اسلحہ کی فراہمی معطل کرنے اور انقرہ پر پابندیاں عاید کرنے پرغور شروع کیا ہے۔

سینیٹرز لنڈسے گراہم اور کرس وان ہولن کی سربراہی میں سینیٹرز کے ایک گروپ نے بدھ کے روز وزیر خارجہ مائیک پومپیو کومکتوب لکھا ہے جس میں یہ استفسار کیا گیا ہے کہ آیا ترکی نے شام میں جنگ بندی معاہدے کی شرائط کی خلاف ورزی کی ہے؟ کیونکہ خبروں میں آیا ہے کہ شام میں ترکی کے حمایت یافتہ گروپوں نے شام پر اپنی کارروائی بڑھا دی ہے۔

یہ مکتوب ایک ایسے وقت میں جاری کیا گیا ہے جب دوسری طرف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے متعدد مواقع پر واضح کیا ہے کہ اگر انقرہ نے 17 اکتوبر کو طے پائے جنگ بندی معاہدے کی کسی بھی صورت میں خلاف ورزی کی ہے تو اس کے خلاف اقتصادی پابندیوں کے نفاذ میں تاخیر نہیں کی جائے گی۔

محکمہ خارجہ کے ایک سینیر عہدیدار نے بدھ کے روز نامہ نگاروں کو بتایا کہ ہم کنفیوز رہتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اگر ترکی نے کوئی بڑی کارروائی کی تو پابندیاں عائد کی جاسکتی ہیں۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ اس امر کی وضاحت کون کرے گا کہ آیا ترکی کی کون سی کارروائی کو دوطرفہ معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے۔

امریکی ہتھیار جنگجوئوں کے ہاتھ لگ گئے

امریکی عہدیداروں نے سی این این کو بتایا کہ انقرہ نے اپنےحامی شامی گروہوں کو بڑی تعداد میں امریکی اسلحہ اور جنگی سازوسامان دیا ہے ، جس میں ٹریک شدہ بکتر بند گاڑیاں بھی شامل ہیں۔ اس اسلحہ کی مدد سے وہ شام میں تیزی کے ساتھ پیش قدمی کرسکتے ہیں۔ ترکے وفادار گروپ شام کے مشرق سے مغرب کو ملانے والی اسٹریٹجک ہائی وے کے کچھ حصوں کا کنٹرول سنبھال سکتے ہیں۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ہوسکتا ہے کہ ان دھڑوں نے جنگی جرائم کا ارتکاب کیا ہو۔

محکمہ خارجہ کے ایک سینیر اہلکار نے بدھ کے روزوضاحت کی کہ ترکی کی حمایت میں لڑنے والےشامی جنگجو بنیاد پرست ہیں۔