.

بغداد میں عراقی فورسز کی براہِ راست فائرنگ ، مزید چار مظاہرین ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کے دارالحکومت بغداد کے وسطی علاقے میں سکیورٹی فورسز نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے ایک مرتبہ پھر براہ راست فائرنگ کردی ہے جس کے نتیجے میں چار افراد ہلاک اور پینتیس زخمی ہوگئے ہیں۔

عراقی ذرائع کے مطابق سکیورٹی فورسز اور مظاہرین میں بغداد میں شہداء پل کے نزدیک جھڑپیں ہوئی ہیں اور سکیورٹی فورسز نے شاہراہ الرشید پر مظاہرین پر براہ راست فائرنگ کی ہے۔

عراقی رصدگاہ برائے انسانی حقوق کی ایک اطلاع کے مطابق مظاہرین نے جنوبی بندرگاہ اُم قصر کو بند کردیا ہے۔

عراق کے دارالحکومت بغداد اور جنوبی شہروں میں یکم اکتوبر سے جاری حکومت مخالف پُرتشدد احتجاجی مظاہروں میں 260 سے زیادہ افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ احتجاجی ریلیوں کے دوران میں عراقی سکیورٹی فورسز کے اہلکار مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے براہ راست گولیاں چلاتے ہیں جس سے اتنی زیادہ تعداد میں ہلاکتیں ہوئی ہیں۔

اقوام متحدہ نے عراق میں حکومت مخالف احتجاجی تحریک کے دوران میں مظاہرین کی ہلاکتوں میں اضافے پر اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے۔

اقوام متحدہ کے ترجمان نے جمعرات کو ایک بیان میں کہا ہے کہ ’’سیکریٹری جنرل انتونیو گوٹیریس نے عراق میں جاری مظاہروں میں ہلاکتوں اور زخمیوں کی تعداد میں مسلسل اضافے پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔عراق سے مظاہرین کے خلاف براہ راست گولیاں چلانے کی پریشان کن رپورٹس مسلسل موصول ہورہی ہیں۔‘‘

بیان کے مطابق ’’سیکریٹری جنرل نے تمام کرداروں پر زوردیا ہے کہ وہ تشدد سے گریز کریں اور تشدد کی تمام کارروائیوں کی سنجیدگی سے تحقیقات کریں۔انھوں نے ایک مرتبہ پھر عراقی حکومت اور مظاہرین کے درمیان بامقصد اور معنی خیز بات چیت کی ضرورت پر زوردیا ہے۔‘‘