.

عالمی اقتصادی فورم کے زیر اہتمام سعودی عرب میں "چوتھے صنعتی انقلاب" کا مرکز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عالمی اقتصادی فورم کے بانی اور اس کے مینجمنٹ بورڈ کے سربراہ پروفیسر کلاؤس شواب نے بدھ کے روز سعودی کابینہ کے متعدد وزراء اور مملکت کے سینئر ذمے داران سے ملاقات کی۔ اس موقع پر فورم کے اہم عہدے داران بھی موجود تھے۔ شواب نے جن سعودی شخصیات سے ملاقات کی ان میں وزیر خارجہ شہزادہ فيصل بن فرحان بن عبدالله، وزیر ثقافت شہزادہ بدر بن عبدالله بن فرحان، وزیر مالیات محمد بن عبدالله الجدعان، ٹیلی کمیونی کیشن اور انفارمیشن ٹکنالوجی کے وزیر عبداللہ بن عامر السواحہ، معشیت اور منصوبہ بندی کے وزیر محمد مزيد التويجری اور شاہی دیوان کے مشیر فہد بن عبدالله تونسی شامل ہیں۔

ملاقات میں سعودی عرب اور عالمی اقتصادی فورم کے درمیان مشترکہ تعاون کے شعبوں پر تبادلہ خیال ہوا۔

اس کے علاوہ سعودی حکومت اور عالمی اقتصادی فورم کے درمیان ایک سمجھوتے پر دستخط بھی کیے گئے۔ اس سمجھوتے کا مقصد سعودی عرب میں عالمی اقتصادی فورم کے زیر انتظام Centre of Fourth Industrial Revolution کی شاخ کا قیام عمل میں لانا ہے۔ یہ عالمی سطح پر مرکز کی پانچویں شاخ ہو گی۔

سمجھوتے پر سعودی عرب کی جانب سے معیشت اور منصوبہ بندی کے وزیر محمد بن مزید التویجری اور عالمی اقتصادی فورم کی جانب سے پروفیسر کلاؤس شواب نے دستخط کیے۔

مذکورہ مرکز مملکت میں چوتھے صنعتی انقلاب سے متعلق میکانزم، ورکنگ پلانز اور ایپلی کیشنز کے واسطے جگہ فراہم کرے گا۔ اسی طرح یہ خطے اور دنیا میں ٹکنالوجی کے بہترین طریقہ کار کو اپنانے کے سلسلے میں بھی اپنا کردار ادا کرے گا۔

اس تعاون سے مملکت کو بھارت، چین اور جاپان جیسے ممالک کے ساتھ فورتھ انڈسٹریل ریوولوشن نیٹ ورک میں داخل ہونے میں معاونت حاصل ہو گی۔

چوتھا صنعتی انقلاب میں متعدد شعبوں پر توجہ مرکوز کی گئی ہے۔ ان میں مصنوعی ذہانت، مشین کے ذریعے سیکھنے کا عمل، روبوٹس، اسمارٹ سِٹیز، ٹکنالوجی اور ڈیٹا پالیسی کا مستقبل اور گورننس، خود نقل پذیری، ڈرون طیارے اور فضائی شعبے کا مستقبل اہم ترین ہے۔

ملاقات کے بعد تمام مہمانان گرامی کے اعزاز میں ظہرانے کا اہتمام کیا گیا تھا۔