.

صومالیہ اور قطر کے مابین پراسرار معاہدے میں ترکی کے مصنوعی سیارے کا راز کیا ہے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

خلیجی ریاست قطر کی حکومت افریقی ملک صومالیہ کے ساتھ ٹیلی کیمونیکیشن کے شعبے میں ایک نیا اور پراسرار معاہدہ کیا ہے۔ اس معاہدے کے تحت مصنوعی سیارے کا استعمال، اور سیٹلائٹ ایریا سروس کے لیے زمین کا حصوہ بھی شامل ہے۔

قطری دارالحکومت دوحہ میں حال ہی میں قطر انفارمیشن ٹیکنالوجی کانفرنس اور نمائش 'KITCOM 2019' میں قطر کے وزیر مواصلات جاسم بن سیف السلیطی اور صومالی وزیر برائے ڈاک برائے اور ٹیلی مواصلات عبدی عاشور حسن نے دونوں ممالک کی حکومتوں کے مابین سیٹلائٹ سروس ایریا میں زمین کی باہمی شمولیت کے معاہدے پر دستخط کیے۔

معاہدے کی تفصیلات مبہم ہیں جب کہ اس میں ترکی کے مصنوعی سیارےکی شمولیت زیادہ مبہم ہے حالانکہ ترکی اس معاہدے کا فریق نہیں ہے۔ اس معاہدے کے پراسرار ہونے پر صومالیا کی سیاسی شخصیات نے منتبہ کیا ہے اور اس کے تمام نکات کو منظر عام پرلانے کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ترکی کے سیٹیلائٹ اور صومالیہ میں سیٹلائٹ ایریا مختص کرنے سے قطر اور ترکی کی طرف سے جاسوسی کے شبہات بڑھ گئے ہیں۔

صومالی حزب اختلاف کی ودجر پارٹی کے سربراہ ، عبدالرحمن عبد الشکور نے 'العربیہ ڈاٹ نیٹ' کو بتایا کہ وہ اس معاہدے کی مذمت کرتے ہیں کیونکہ اس سے قطر نہ صرف صومالیہ بلکہ خطے کے دوسرے ممالک کی جاسوسی کرنے کی صلاحیت حاصل کرسکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ صومالیہ کے پاس سیٹلائٹ کی سہولت میسر نہیں۔ موجودہ حکومت سیٹلائٹ کے حصول کے بعد اسے اپوزیشن کی جاسوسی کے لیے استعمال کرسکتی ہے۔ اس طرح صومالیہ کی سرزمین قطر اور ترکی کی جاسوسی کا ایک اڈا بن سکتی ہے۔ انہوں نے صومالیہ کی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے اس پر قطر کی آلہ کار ہونے کا الزام عایدکیا۔

ودجر پارٹی کے رہ نما کا کہنا تھا کہ صومالیہ واحد عرب ملک تھا جس نے شمالی شام میں ترکی کی فوجی یلغارکی مخالفت میں عرب لیگ میں پیش کی گئی قرارداد میں قطر کے موقف کی تائید کی تھی جب کہ پوری عرب دنیا نے شام میں ترکی کی فوجی مداخلت کی مذمت کی۔

انہوں نے مزید کہا کہ قطر کا مقصد عرب ممالک اور قرن آف افریقا میں اس کی پالیسیوں کی مخالفت کرنے والے ممالک کی جاسوسی کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کا مقصد صومالیہ میں مواصلاتی نیٹ ورک کو مضبوط بنانا اور صومالی عوام کو اچھی سروسز کی فراہمی نہیں ہے۔ اس کا مقصد صرف اور صرف صومالیہ کی حکومت پراپنی گرفت مضبوط کرنا ہے۔

صومالیہ کی انٹیلی جنس کے سابق ڈپٹی چیف ڈ جنرل عبد اللہ عبد اللہ نے کہا کہ ترکی نیٹو کا رکن ملک ہے۔ نیٹو کے رکن ملک کی حیثیت سے وہ صومالیہ میں اپنے جاسوسی مصنوعی سیارے نہیں رکھ سکتا۔ انہوں نے "العربیہ ڈاٹ نیٹ" سے بات کرتے ہوئے مزید کہا کہ ترکی قطر کو معاہدے پر دستخط کرنے کے لیے استعمال کررہا ہے۔ تاکہ صومالیہ کوترکی اور قطر کا وفادار بنایا جا سکے۔