.

ایرانی سپریم لیڈر کا ممکنہ جانشین امریکی پابندیوں کی زد میں کیوں؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مغربی ذرائع ابلاغ کے مطابق ایران کے خلاف امریکی پابندیوں کے تازہ ترین سلسلے ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے بیٹے اور ان کے ممکنہ جانشین مجتبیٰ خامنہ ای کو نشانہ بنایا۔ یہ اطلاعات ایک ایسے وقت میں آئی ہے جب دوسری طرف پروسٹیٹ کینسر میں مبتلا علی خامنہ ای کی موت کی خرابی صحت کی خبریں بھی گردش کررہی ہیں۔ ان کی وفات کی صورت میں جن شخصیات کو ان کے متوقع جانشین کہا جا رہا ہے ان میں سپریم لیڈر کے صاحب زادے مجبتیٰ خامنہ ای بھی شامل ہیں۔

4نومبر کو تہران میں امریکی سفارت خانے پر قبضہ اورعملے کو یرغمال بنائے جانے کے واقعے کی 40 ویں برسی کے موقع پرامریکی محکمہ خزانہ کے غیرملکی اثاثہ جات کنٹرول آفس (OFAC) نے مجتبیٰ خامنہ ای ،ایران کے متعدد جرنیلوں اور مجبتیٰ خامنہ اورعلی خامنہ ای کے 9 مقربین کو پابندیوں کی فہرست میں شامل کیا۔

امریکی محکمہ خزانہ کی طرف سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ "یہ لوگ ایرانی حکومت کے غیرمنتخب علی خامنہ ای کی طرف سے کام کر رہے ہیں اور ایرانی سپریم لیڈر کا دفترایران کے شدت پسند ایجنڈے پر عمل درآمد کا ذمہ دار ہے۔"

امریکی وزارت خزانہ کی ویب سائٹ کے مطابق (OFAC) کے اس اقدام کا مقصد علی خامنہ ای کے مشیر برائے فوجی اور خارجہ امور کے نیٹ ورک کے ذریعے رقوم کی آمد کو روکنا ہے کیونکہ ایرانی رجیم کئی دہائیوں سے ایرانی عوام پر ظلم و ستم ڈھا رہی ہے ، دہشت گردی برآمد کر رہی ہے اور دنیا بھر میں عدم استحکام پیدا کرنے والی پالیسیاں تیار کر رہی ہے۔

نئی پابندیوں کی فہرست میں سب سے اہم شخصیت ایرانی رہبر اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کا دوسرا بیٹا مجتبیٰ خامنہ ای بھی شامل ہے۔ مجبتیٰ کسی سرکاری عہدے پر فائز نہ ہونے کے باوجود کئی اہم ریاستی امور چلا رہا ہے۔

وزارت خزانہ کے بیان میں کہا گیا ہے سپریم لیڈر نے اپنی قائدانہ ذمہ داریوں کا کچھ حصہ اپنے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای کو سونپ دیا ہے۔ وہ سپاہ پاسداران انقلاب کی قیادت اور پاسیج ملیشیا کے ساتھ بھی قریبی تعلقات رکھتا ہے۔

کلیدی کردار

گذشتہ دو دہائیوں کے دوران ایران میں ہونے والی سیاسی پیشرفت سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ی آہستہ آہستہ اس منظر کے اہم کھلاڑیوں میں شامل ہوگیا ہے کیونکہ بہت سے تجزیہ کار توقع کرتے ہیں کہ مجبتیٰ خامنہ ای ایرانی حکومت کے مستقبل میں زیادہ سے زیادہ فعال کردار ادا کریں گے۔

پچھلے 10 برسوں میں ایرانی مذہبی شخصیات کہتی چلی آ رہی ہیں کہ مجتبیٰ خامنہ ای کو ایک مذہبی فقیہ بنانے کے لیے تیار کیا جارہا ہے۔ فقہی بننے سے ایران میں اس کے علمی دائرے میں حیثیت اور درجہ غیر معمولی ہوجائے گا۔

اخبار'جہان نیوز' کے مطابق مجتبیٰ کو سنہ 2009ء سے قم اسکول میں اعلی درجے کی دینی نصاب کی تعلیم دی ہے۔ اس سے کچھ علما پریشان ہیں جن کا خیال ہے کہ مجتبیٰ اپنے والد کے منصب کا استحصال کررہے ہیں۔ تاہم خامنہ ای کے قریبی علماء قم میں مشہور علما کو دعوت دے رہے ہیں تاکہ مجتبیٰ کو فقی مقام پر کھڑا کرنے میں مدد کریں۔ اس طرح خامنہ ای کی وفات کے بعد انہیں اعلی قائد کے کردار کے لیے تیار کیا جا سکے۔

سابق پارلیمنٹ کے اسپیکر مہدی کروبی نے سنہ2005ء اور سنہ 2009ء میں خامنہ ای کو دو بار خط لکھا تھا جس الزام لگایا تھا کہ ان کے بیٹے مجتبیٰ نے پاسداران انقلاب اور پاسیج ملیشیا کے ذریعے صدارتی انتخابات میں مداخلت کی ہے۔

سابق صدر اکبر ہاشمی رفسنجانی کے بھائی محمد ہاشمی اور سابق نائب وزیر داخلہ مصطفی تاجزادہ نے بھی انکشاف کیا ہے کہ مجتبیٰ نے انتخابی عمل میں مداخلت کی تھی اور مخالفین کو کچلنے اور انہیں دبانے کے حربوں میں حصہ لیا تھا۔

بہت سے ایرانی مبصرین کا خیال ہے کہ خامنہ ای کا اپنے بیٹے کی سرگرمیوں، ان کے دفتری امور میں مداخلت، انتخابات پر اثر انداز ہونے اور انٹیلی جنس اداروں پر اثرو رسوخ بڑھانے پر خاموشی اختیار کرنا دراصل انہیں اپنا سیاسی وارث اور جانشین بنانے کے لیے تیار کرنا ہے۔