.

امریکا کا عراق میں قبل ازوقت انتخابات اور مظاہرین کے خلاف تشدد روکنے کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا نے عراقی حکام پر زوردیا ہے کہ وہ ملک میں قبل ازوقت پارلیمانی انتخابات منعقد کرائیں ، انتخابی اصلاحات کریں اور مظاہرین کے خلاف تشدد کو روک دیں۔

وائٹ ہاؤس کے ایک بیان کے مطابق ’’ واشنگٹن یہ چاہتا ہے کہ عراقی حکومت مظاہرین کے خلاف تشدد کو روک دے۔صدر برہم صالح کے انتخابی اصلاحات کے وعدے کو پورا کرے اور قبل ازوقت انتخابات کرائے‘‘۔

’’امریکا کو مظاہرین ، کارکنان اور میڈیا کے خلاف حملوں پر گہری تشویش لاحق ہے۔وہ عراق میں انٹرنیٹ پر عاید پابندیوں پر بھی مشوش ہے۔‘‘ بیان میں مزید کہا گیا ہے۔

عراقی پارلیمان کی انسانی حقوق کمیٹی کے مطابق حالیہ مظاہروں کے آغاز کے بعد سے 319 افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ ان مہلوکین میں مظاہرین اور سکیورٹی فورسز کے اہلکار شامل ہیں۔کمیٹی کا کہناہے کہ مظاہروں کی جگہوں کے نزدیک اسنائپرز متحرک رہے ہیں اور مظاہرین کے خلاف شکار میں استعمال ہونے والی بندوقوں کا استعمال کیا گیا ہے۔

عراق کے دارالحکومت بغداد اور جنوبی شہروں میں یکم اکتوبر سے حکومت مخالف پُرتشدد احتجاجی مظاہرے جاری ہیں۔ عراقی سکیورٹی فورسز کے اہلکاراحتجاجی ریلیوں میں شریک مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے براہ راست گولیاں چلاتے ہیں جس سے اتنی زیادہ تعداد میں ہلاکتیں ہوئی ہیں۔

مظاہرین حکومت سے مستعفی ہونے اور2003ء میں امریکا کی چڑھائی کے بعد عراق میں نافذ سیاسی نظام میں مکمل اصلاحات کا مطالبہ کررہے ہیں۔وہ ملک کی سیاسی اشرافیہ کی بڑے پیمانے پر کرپشن ، قومی خزانے کی لوٹ کھسوٹ، بے روزگاری کی بلند شرح اور سرکاری خدمات کے پست تر معیار کے خلاف سراپا احتجاج بنے ہوئے ہیں۔