.

ایرانی شہر اھواز میں سیاسی شاعر کی قاتلانہ حملے میں ہلاکت کے بعد احتجاجی مظاہرے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے عرب اکثریتی شہر اہوازمیں نوجوان شاعر حسن الحیدری کے قاتلانہ حملے میں قتل کی اطلاعات کے بعد رات کے مظاہرے دیکھنے میں آئے ہیں۔ شاعر الحیدری کو ہفتے اور اتوار کی درمیانی شب اسپتال منتقل کیا گیا جہاں ان کی موت کی تصدیق کی گئی ہے۔

سوشل میڈیا پر اھواز میں شاعر الحیدری کے قتل کے خلاف ہونے والے مظاہروں کے مناظر کی ویڈیوز اور تصاویر شائع کی جا رہی ہیں۔ سوشل میڈیا پر پوسٹ کردہ فوٹیجز میں اھواز میں کوٹ عبداللہ ، علوی اور اور الشکارہ کے مقامات پر مظاہروں کی ویڈیوز شامل ہیں۔ ان ویڈیوز میں بڑی تعداد میں ایرانی شہری احتجاج کرتے دیکھے جاسکتے ہیں۔ مظاہرین اور سوشل میڈیا کارکنان نے شاعر الحیدری کے قتل کی جامع اور فوری تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے اس اندھے قتل میں ملوث عناصر کو کیفر کردار تک پہنچانے کا اعلان کیا گیا ہے۔ ویڈیوز میں کوٹ عبداللہ میں ٹائر جلا کرلوگوں کو سیاسی شاعر کے قتل کی تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ مظاہرین حکومت کے خلاف بھی شدید نعرے بازے کرہے ہیں۔

اہوازی کارکنوں نے ایرانی حکومت پر یہ بھی الزام لگایا کہ وہ دوران حراست حیدری کو زہر دے کر ہلاک کرنا چاہتی تھی تاہم ایک ماہ قبل انہیں ضمانت پر رہا کیا گیا تھا۔

ایرانی رجیم پر الزام عاید کیا جاتا ہے کہ وہ اپنے سیاسی مخالفین کو کچلنے کے لیے ایسے پراسرار حربے استعمال کرتی ہے جس سے ریاست کے ملوث ہونے کا شبہ کم ہوجاتا ہے۔ مثال کے طور پر مخالفین کو زہر دے کرقتل کرنا، ٹریفک حادثات میں قتل کرنا یا پانی میں ڈبو کر ہلاک کرنے کے ہتھکنڈے شامل ہیں۔