.

شام کے شمالی شہر قامشیلی میں پے درپے تین بم دھماکے ، چھے افراد ہلاک

شامی فوج جلد شمال مغربی صوبہ ادلب پر دوبارہ کنٹرول حاصل کرلے گی: بشارالاسد کا روسی ٹی وی سے انٹرویو میں دعویٰ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کے شمال میں واقع کرد اکثریتی شہر قامشیلی میں پے درپے تین بم دھماکوں میں چھے شہری ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے ہیں۔

برطانیہ میں قائم شامی رصدگاہ برائے انسانی حقوق نے اطلاع دی ہے کہ قامشیلی میں سوموار کو بارود سے بھری دو کاروں سے دھماکے کیے گئے ہیں اور ایک بم موٹر سائیکل کے ساتھ نصب تھا جس کے پھٹنے سے تیسرا دھماکا ہواہے اور اس سے متعدد کاریں تباہ ہوگئی ہیں۔

شام کی سرکاری خبررساں ایجنسی سانا کے مطابق دونوں کار بم دھماکے ایک بازار میں ہوئے ہے اور ایک بم دھماکا ایک ہوٹل کے باہر ہوا ہے۔اس نے متعدد افراد کے ہلاک اور زخمی ہونے کی اطلاع دی ہے مگر کسی حتمی تعداد کی تصدیق نہیں کی ہے۔

شمالی شام ہی میں نامعلوم مسلح افراد نے آرمینیا سے تعلق رکھنے والے ایک کتھولک پادری اور اس کے والد کو فائرنگ کر ہلاک کردیا ہے۔وہ گاڑی میں سوار قامشیلی سے شمال مشرقی شہر الحسکہ کی جانب جارہے تھے۔

بشار الاسد کا دعویٰ

قبل ازیں آج رشیا ٹوڈے نے شامی صدر بشارالاسد کا ایک انٹرویو نشر کیا ہے۔اس میں انھوں نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کی وفادار فوج بہت جلد باغیوں کے زیر قبضہ شمال مغربی صوبہ ادلب پر دوبارہ کنٹرول حاصل کر لے گی۔

انھوں نے کہا کہ ’’وہ ادلب میں مقیم شہریوں کو کچھ وقت دینا چاہتے ہیں تاکہ وہ وہاں سے نکل جائیں۔‘‘اس صوبے پر القاعدہ سے وابستہ جنگجو گروپ اور اس کی اتحادی جہادی تنظیموں کا کنٹرول ہے۔

صدر بشارالاسد کی فوج نے اس سال اپریل میں ادلب کو سرنگوں کرنے کے لیے باغی گروپوں کے خلاف تباہ کن فوجی مہم شروع کی تھی۔اس کے نتیجے میں کم سے کم ایک ہزار افراد ہلاک اور چار لاکھ سے زیادہ بے گھر ہوگئے تھے لیکن اگست میں شامی حکومت کے پشتیبان روس نے ترکی اور ایران کے ساتھ مذاکرات کے بعد اس صوبے میں جنگ بندی کا اعلان کیا تھا۔

شامی فوج نے اس کارروائی میں ادلب میں واقع اہم شہر خان شیخون اور اس کے آس پاس واقع متعدد دیہات پر قبضہ کر لیا تھا۔

تاہم تب سے متحارب فوجوں کے درمیان وقفے وقفے سے جھڑپیں جاری ہیں اور حزب اختلاف سے تعلق رکھنے والے کارکنان نے حالیہ دنوں میں علاقے پر توپ خانے سے گولہ باری کی اطلاع دی ہے۔