.

عراق میں پرتشدد مظاہروں میں ہلاکتوں کی تعداد 300 سے تجاوز کرگئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اتوار کے روز عراق میں ہیومن رائٹس کے کمیشن کے اعلان کے مطابق ، گذشتہ اکتوبر میں حکومت مخالف مظاہروں کے آغاز کے بعد اب تک 319 مظاہرین اور سیکیورٹی فورسز کے اہلکار ہلاک ہوچکے ہیں۔

عراقی نیوز ایجنسی ممبر پارلیمنٹ ارشد الصالحی کی سربراہی میں قائم کمیٹی نے مظاہروں کی مانیٹرنگ کے لیے سرکاری اور غیر سرکاری اداروں کو احتجاج کے حوالے سے مستند معلومات جمع کرنے اور احتجاج کی مانیٹرنگ کی ضرورت پر زور دیا۔

انہوں نے ان خطرناک طریقوں کے بارے میں بھی شدید تشویش کا اظہار کیا جن میں مظاہرین کو سنائپرز اور نامعلوم افراد کے ذریعہ نشانہ بنائے جانے کے واقعات شامل ہیں۔ ارشد الصالحی نے ملک میں انٹرنیٹ کی بندش ختم کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔

درایں اثناء انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے عراقی حکام سے مظاہرین کے خلاف مہلک طاقت کے مسلسل اور غیر قانونی استعمال کے فوری خاتمے کا مطالبہ کیا۔

انسانی حقوق کی تنظیم کی جانب سے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ عراق میں بہت خون خرابہ ہوچکا، یہ سلسلہ اب بند ہونا چاہیے اور تشدد کرنے اور شہریوں کا خون بہانے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لی جانی چاہیے۔