.

غزہ پر اسرائیلی فوج کے فضائی حملوں میں شدّت،9 فلسطینی شہید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی فوج نے بدھ کو غزہ پر فضائی حملے جاری رکھے ہوئے ہیں اور ان میں مزید نو فلسطینی شہید ہوگئے ہیں۔غزہ میں حماس کے تحت وزارت صحت نے بتایا ہے کہ گذشتہ دو روز میں اسرائیلی فوج کے جارحانہ حملوں میں شہید ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد بائیس ہوگئی ہے۔

اسرائیلی طیاروں نے منگل اور بدھ کی درمیانی شب مزاحمتی گروپ جہادِ اسلامی کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا تھا اور بدھ کو بھی غزہ کے مختلف علاقوں میں رہائشی علاقوں پر بمباری کی ہے۔

غزہ کے شفا اسپتال میں نو نعشیں منتقل کی گئی ہیں۔انھیں آج صبح ٹیکسیوں اور ایمبولینس گاڑیوں کے ذریعے لایا گیا تھا۔طبی ذرائع اور عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ یہ تمام عام شہری تھے اور غزہ شہر کےگنجان آباد علاقے میں مقیم تھے۔ان شہداء میں ایک فلسطینی باپ بیٹا بھی شامل ہیں اور ان کا ایک بیٹا شدید زخمی ہوگیا ہے۔

جہادِ اسلامی نے غزہ شہر کے جنوب میں اپنے دو کارکنان کی موت کی تصدیق کی ہے۔طبی ذرائع نے بعد میں ایک اور فلسطینی شخص کی شہادت کی اطلاع دی ہے۔صہیونی فوج نے اس کے موٹر سائیکل کو فضائی حملے میں نشانہ بنایا تھا۔

اسرائیلی فوج کے جارحانہ فضائی حملوں میں منگل کے روز دس فلسطینی شہید ہوئے تھے۔ ان میں جہاد اسلامی کے ایک کمانڈر اور ان کی اہلیہ بھی شامل ہے۔ان پر اسرائیلی فوج نے غزہ پٹی میں اہدافی حملہ کیا تھا۔

اسرائیل نے جہادِ اسلامی کے کمانڈر ابوالعطا پر اپنے علاقے کی جانب حال ہی میں ایک راکٹ داغنے اور راکٹ حملوں کی منصوبہ بندی کا الزام عاید کیا تھا اور کہا تھا کہ اسرائیلی فوج غزہ پٹی پر راکٹ حملوں کے جواب میں فضائی بمباری جاری رکھے گی۔

جہادِ اسلامی نے گذشتہ روز اپنے کمانڈر کی شہادت کے بعد اسرائیل کی جانب کم سے کم دو سو راکٹ فائر کیے تھے اوربدھ کو بھی یہ سلسلہ جاری رکھا ہے۔ اس کے جواب میں اسرائیلی طیاروں نے غزہ پر تباہ کن بمباری کی ہے۔تنظیم کے ایک عہدہ دار نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اسرائیل کی جانب راکٹ حملے جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے اور کہا ہے کہ دشمن کو اب اپنی حماقت کی قیمت چکانا پڑے گی۔

سائرن اور دھماکے

غزہ کی پٹی سے اسرائیل کے جنوب کی جانب راکٹ داغے جانے کے بعد متعدد شہروں اور قصبوں میں سائرن بجائے گئے ہیں اوربعض راکٹ اسرائیلی شاہراہوں پر گرنے سے دھماکے ہوئے ہیں۔

اسرائیلی فوج کو بکتر بند گاڑیوں کے ساتھ غزہ کی سرحد کے ساتھ تعینات کیا جارہا ہے۔ تاہم اسرائیلی فوج کی غزہ کی پٹی میں زمینی کارروائی کا امکان نہیں ہے۔

انتہا پسند اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کا کہناہے کہ’’ اسرائیل کو سرحد پر تنازع میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ہم کشیدگی نہیں چاہتے ہیں اور ہم صرف اپنے خلاف حملوں کا بالکل ٹھیک ٹھیک جواب دے رہے ہیں۔جہادِ اسلامی کو بلا تاخیر اس بات کو سمجھ لینا چاہیے۔‘‘

غزہ میں آج مسلسل دوسرے روز بھی اسکول اور بیشتر سرکاری دفاتر بند رہے ہیں۔اسرائیل کے جنوبی علاقوں میں بھی راکٹ گرنے کے بعد اسکول بند رہے ہیں۔تاہم فوری طور پر اس راکٹ باری سے جانی اور مالی نقصان کی اطلاع نہیں ہے۔