.

لبنان میں 11 ہزار بنک ملازمین کی ہڑتال سے بنکنگ سسٹم مفلوج

حکومت کا 'اے ٹی ایم' کے ذریعے رقوم جاری رکھنے کا اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنان میں حکومت کے خلاف جاری احتجاجی تحریک کے دوران گذشتہ روز 11 ہزار بنک ملازمین نے ہڑتال شروع کی ہے۔ دوسری طرف تاجر تنظیموں کی یونین نے کہا ہے کہ ملازمین کے مطالبات پورے ہونے تک کام پر واپسی نہیں ہوگی۔ حکومت کے پاس صرف ایک ہی راستہ ہے کہ وہ ملازمین کے مطالبات تسلیم کرتے ہوئے تمام بنکوں کی سیکیورٹی یقینی بنائے اور دیگر مطالبات کے لیے غیرمعمولی اقدامات کیے جائیں۔

لبنان میں بینک ایسوسی ایشن کے صدر سےٹریڈ یونین کے ایک وفد نے ملاقات کی جس کے بعد دونوں فریقوں نے اعلان کیا کہ صارفین کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے اے ٹی ایم کے ذریعے مسلسل رقوم فراہم کی جاتی رہیں گی۔

لبنانی بینک ملازمین یونین کے سربراہ نے کہا کہ لبنانی دارالحکومت بیروت اور دیگر علاقوں میں منگل کے روز ہڑتال کی وجہ سے بینک بند ہوگئے تھے۔

یونین کے صدر جارج الحاج نے کہا کہ 'اے ٹی ایم' کے ذریعے صارفین کو نقدی فراہم کی جاتی رہے گی۔

بنک یونین جو کہ 11000 ملازمین کی نمائندگی کرتی ہے نے حفاظتی خدشات کے پیش نظر پیر کو ہڑتال کی کال دی اور بینکوں اور صارفین کے ذخائر واپس لینے کے مطالبات کے خلاف احتجاج کا اعلان دیا۔ بینکوں نے ڈالر کی واپسی اور بیرون ملک منتقلی پر پابندیاں عائد کردی ہے۔

لبنانی بینک ملازمین کی نمائندگی کرنے والی یونین کے سربراہ نے کہا کہ اس ہڑتال کے بعد منگل کے روز ملک بھر میں بینکوں کی بندش کے بعد
آج بدھ کے روز بھی ہڑتال کو جاری رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

الحاج نے کہا کہ اس ہڑتال کو جاری رکھنے کا متفقہ فیصلہ کیا گیا ہےاس حوالے سے جلد ہی ایک تفصیل بیان بھی جاری کیا جائے گا۔

خیال رہے کہ لبنان میں حکومت مخالف احتجاج کے دوران بنکوں کے باہر ہونے والے مظاہروں اور رقوم نکالے والے صارفین کی بہت زیادہ تعداد کے پیش نظر بنک ملازمین نے ہڑتال کی کال دی تھی۔ بنک ایسوسی ایشن کا بڑا مطالبہ تمام بنکوں اور ان کے ملازمین کو مکمل سیکیورٹی فراہم کرنا ہے۔

مقامی سطح پر منی چینجر حضرات کے پاس ڈالرکا لین دین زیادہ دکھا جارہا ہے جس کےنتیجے میں ڈال کی قیمت میں اضافہ بھی دیکھنے میں آیا ہے۔