.

لیبیا کے جسمانی طور پرآپس میں جڑے دو بچوں کا سعودی عرب میں آپریشن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لیبیا سے تعلق رکھنے والے دو شیرخوار بچے جن کے دھڑ ایک دوسرے کے ساتھ جُڑے ہوئے ہیں کوآپریشن کے ذریعے الگ کرنے کے لیے سعودی عرب لایا گیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق سعودی عرب کے ماہر سرجن ڈاکٹر عبداللہ بن عبدالعزیز الربیعہ اور ان کی ٹیم نے کل منگل کے روز بچوں کے معائنے کی تکمیل کے بعد ان کی سرجری کا فیصلہ کیا ہے۔ آپس میں جڑے بچوں کے نام احمد اور محمد رکھے گئے ہیں۔ ان کی سرجری کا عمل کل جمعرات کو شاہ عبدالعزیز میڈیکل سٹی کے شاہ عبداللہ اسپتال میں کیا جائے گا۔

سرجری ٹیم کے سربراہ ڈاکٹر عبداللہ الربیعہ نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ دونوں بچوں کے پیٹ کا نچلا حصہ آپس میں جڑا ہوا ہے۔ دونوں اندرون نظام تناسل اور پیشاب کا نظام اندر سے ایک ہی ہے تاہم دونوں اعضاء تناسل الگ الگ ہیں۔ موٹی آنت اور معدے کا کچھ حصہ بھی جڑا ہوا ہے اور بعض دوسرے اندرونی اعضاو جوارح بھی باہم مربوط ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر الربیعہ کا کہنا تھا کہ بچوں کی سرجری کی کامیابی کے امکانات زیاہ ہیں تاہم کیس بہت زیادہ پیچیدہ ہونے کی وجہ سے کافی خطرات بھی ہیں۔ بچوں کے والدین نے سرجری کی مکمل اجازت دی اور اختیارات دیے ہیں۔ اس کے بعد اللہ پر بھروسہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس طرح کے بچوں کی پیدائش کی شرح بہت کم ہے۔ ایسے کیسز کے علاج کے لیے بہت زیادہ مہارت کی ضرورت ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ آپریشن 11 مراحل میں 15 گھنٹے تک جاری رہے گا جس میں 35 ماہرین حصہ لیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب میں اب تک اس طرح کے 48 کیسز کا کامیاب علاج کیا جاچکا ہے۔

خیال رہے کہ سعودی عرب فرمانروا اور خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے لیبیا کے جڑواں بچوں کے علاج کے لیے خصوصی ہدایات دی ہیں۔